اسرائیل طے شدہ حملے سے قبل رفح سے شہریوں کے انخلاء کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی ذرائع نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل جو غزہ کی پٹی میں رفح شہر کو حماس کا آخری گڑھ سمجھتا ہے، وہاں طے شدہ حملے سے قبل اس نے فلسطینی شہریوں کے لیے دسیوں ہزار خیمے خرید لیے ہیں جنہیں وہ آئندہ ہفتوں میں رفح سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مصری سرحد سے متصل رفح کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں سے بڑھ گئی ہے جو نصف سالہ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے غزہ کے بقیہ حصے سے فرار ہو گئے تھے۔

ان کی قسمت مغربی طاقتوں کے ساتھ ساتھ قاہرہ کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے جس نے مصری صحرائے سینا میں پناہ گزینوں کی آمد کو مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ شہریوں کے تحفظ کے بارے میں امریکہ کے ساتھ ہفتوں کی بات چیت کے بعد اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے رفح سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کے لیے 40,000 خیمے خریدے ہیں جن میں سے ہر ایک میں 10 سے 12 افراد کی گنجائش ہے۔

آن لائن گردش کرنے والی ویڈیو میں رفح سے تقریباً 5 کلومیٹر (3 میل) کے فاصلے پر واقع شہر خان یونس میں مربع نما سفید خیموں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔

رائٹرز اس کی تصدیق نہیں کر سکا لیکن سیٹلائٹ کمپنی مکسار سے تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں سات اپریل کو خالی ہونے والی خان یونس کی زمین پر متعدد خیمہ کیمپ دکھائے گئے ہیں۔

اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جنگی کابینہ نے شہریوں کے انخلاء کا اختیار دینے کے لیے رفح کو خالی کرنے کے پہلے مرحلے کے طور پر آئندہ دو ہفتوں میں میٹنگ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس انخلاء میں تقریباً ایک ماہ لگنے کا امکان ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جنگ کے مخصوص منصوبوں پر بات نہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے تیزی سے رفح پر پیش قدمی کے لیے تیاری کا اشارہ دیا ہے۔

غزہ میں کام کرنے والے 162 ویں ڈویژن کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اتزیک کوہن نے منگل کو کان پبلک ٹی وی کو بتایا، "حماس کو شمالی سیکٹر میں شدید نقصان پہنچا۔ پٹی کے مرکز میں بھی اسے شدید نقصان ہوا۔ اور جلد ہی اسے رفح میں بھی سختی سے نشانہ بنایا جائے گا۔"

نیز انہوں نے کہا، "حماس کو یہ جان لینا چاہیے کہ جب آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) رفح میں جائیں گی تو وہ ہتھیار ڈالنے کے لیے ہاتھ اٹھانے کی بہترین کوشش کرے گی۔ رفح آج والا رفح نہیں ہوگا۔۔ وہاں جنگی ساز و سامان نہیں ہوگا۔ اور یرغمال نہیں ہوں گے۔"

بدھ کے روز فوج نے کہا کہ اس نے غزہ میں مشن کے لیے ارکانِ مخصوصہ کے دو بریگیڈز کو متحرک کر دیا تھا۔

اسرائیل کہتا ہے کہ رفح میں حماس کی چار سلامت جنگی بٹالین موجود ہیں جنہیں گروپ کے پسپا ہونے والے ہزاروں مزاحمت کاروں نے تقویت دی ہے۔ اسرائیل کہتا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے سرحد پار قتل و غارت کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ میں فتح رفح پر قبضہ کیے بغیر، حماس کو کچلے اور وہاں سے کسی بھی یرغمالی کو بازیاب کیے بغیر ممکن نہیں۔

حماس نے اپنی تعیناتیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

منگل کو جنگ کے 200 ویں دن کے موقع پر ایک تقریر میں حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ اسرائیل کو اس مہم میں صرف "ذلت اور شکست" حاصل ہوئی ہے جس کے بارے میں غزہ کے طبی حکام کہتے ہیں کہ اس میں 34,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک اور انخلاء سنگین نظر آتا ہے۔

30 سالہ آیا جو شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک سکول میں عارضی طور پر رہ رہی ہیں، نے کہا وہ اسے چھوڑنے پر غور کر رہی ہیں۔ لیکن وہ پریشان ہیں کہ یہ خاصا خطرناک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خاندان حال ہی میں ساحلی المواسی میں ایک پناہ گزین کیمپ میں منتقل ہوئے لیکن جب ٹینک کے گولے قریب آ کر گرے تو ان کے خیموں میں آگ لگ گئی۔

انہوں نے کہا، "مجھے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا رفح کو چھوڑنا ہے یا نہیں کیونکہ مجھے اور میری والدہ کو خدشہ ہے کہ اچانک حملہ ہو سکتا ہے اور ہمیں فرار ہونے کا وقت نہیں ملے گا۔ ہم کہاں جائیں؟"

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی سکیورٹی سٹڈیز کے ایک سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ایچ اے ہیلیر نے کہا کہ انہیں رفح پر "جلد" حملہ ہونے کی توقع ہے کیونکہ نیتن یاہو پر دباؤ ہے کہ وہ یرغمالیوں کو بچانے اور حماس کے تمام قائدین کو ہلاک کرنے کے بیان کردہ مقاصد کو پورا کریں۔

انہوں نے کہا، "انہوں نے یہ سب کچھ جس طریقے سے تیار کیا ہے، اس کی وجہ سے رفح پر حملہ ناگزیر ہے۔" لیکن ہر ایک کے لیے شہر چھوڑنا ممکن نہیں ہوگا اس لیے "اگر وہ رفح میں فوج کشی کرتے ہیں تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوگا۔"

مصر نے کہا کہ اس نے اسرائیل کو رفح کے معاملے پر آگے بڑھنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ مصر کی سرکاری اطلاعاتی سروس نے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے "بہت زیادہ انسانی قتلِ عام، نقصانات اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں