اسرائیل کی 'نیتزح یہودا بٹالین'نہتے فلسطینی شہریوں پرتشدد کی 25سالہ کی تاریخ رکھتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں تقریباً سات ماہ کے دوران اسرائیل کی بھرپور جنگی مہم میں سہولت اور سرپرستی فراہم کرنے والے امریکہ نے اسرائیلی فوج کے اندر عملاً ایک الگ یہودی فوج (army within an army) کا درجہ پا چکی نیتزح یہودا بٹالین کو پابندیوں کی زد میں لانے پر غور شروع کیا ہے۔ یہ غور بلاشبہ 34 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد شروع کیا گیا ہے۔

اسرائیل کے انتہائی بنیاد پرست یہودیوں پر مشتمل اس نیتزح یہودا بٹالین کی ایک نسل پرستانہ اور مذہبی شدت پسندانہ تاریخ اور روایت رہی ہے۔ جس کی ضرورت اسرائیل کو 1999 میں اوسلو معاہدے کے محض چند برس بعد محسوس ہو گئی تھی۔

اوسلو معاہدے کے بعد مستقبل کی تیاری کے لیے اسرائیل کے پاس انتہائی بنیاد پرست یہودی بٹالین بھی ضروری ہے۔ تبھی اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ واضح رہے اسرائیلی فوج بنیادی طور پر ان یہودی تنظیموں کی باقیات پر مشتمل تھی جنہیں 1948 میں فلسطینیوں کے لیے نکبہ کا ماحول پیدا کیا اور کئی برس تک لڑائی کرتی رہی۔

تاہم 1948 کے بعد اسرائیل نے یہودی شدت پسندوں کو فوجی بھرتیوں سے استثناء دے دیا تاکہ وہ یہودی مذہب کی تعلیم ، تبلیغ اور تنفیذ کے لیے تیاری کا عمل جاری رکھ سکیں۔ مگر 1999 میں اس دیے گئے استثناء کو جزوی طور پر واپس لے لیا گیا اور یہودی بنیاد پرست مردوں کے لیے فوج کے اندر ایک فوج کے طرز پر نیتزح یہودا بٹالین کھڑی کر دی گئی۔

اس بٹالین نے 1999 سے 2022 تک مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کو خوب نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھا۔ امریکہ نے مغربی کنارے میں اپنی پالیسی میں اس بٹالین کو نامناسب خیال کرنا شروع کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر پابندیوں کے لیے غور شروع کیا گیا ہے۔

فرانسیسی تھنک ٹینک 'جین جورس فاؤنڈیشن' سے وابستہ ڈیوڈ خلفا نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے 'نیتزح یہودا بٹالین کا قیام بنیاد پرست یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن اس بٹالین میں عرب دشمنی رکھنے والوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔' نیتزح یہودا کی اب وہی شکل سامنے آگئی ہے جو 1948 سے پہلے یہودی جنگجو تنظیموں کی ہوا کرتی تھی۔ گویا یہودی جنگجو تنظیموں کو اسرائیلی فوج کی چھتری تلے پچاس سال بعد ایک نیا جنم مل گیا ہے۔

اس کی جانب امریکہ کی توجہ اس وقت ہوئی تھی جب 2022 میں اس برین نے مغربی کنارے میں امرکی شہریت کے حامل 78 سالہ فلسطینی کو بدترین تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ جس کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی اور ایک طویل عرصے سے جاری اس کی دہشت انگیز کارروائیوں کے بارے میں انکشافات سامنے آنے لگے۔

'یروشلم پوسٹ' نے نیتزح یہودا بٹالین کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے سہولت کاری ماحول دیے رکھا۔ اس سہولت کاری پر بائیں بازو کے اخبار 'ہاریٹیز' نے اب آکر مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں