فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم کا اصلاحاتی پیکج کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اتھارٹی کے نئے وزیر اعظم محمد مصطفی نے عالمی سطح سے اسرائیل کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے نئے آغاز اور اصلاحات کے مطالبے کے ماحول میں اصلاحاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

87 سالہ محمود عباس نے رواں سال کے شروع میں محمد مصطفی کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔تاکہ عالمی طاقتوں کی فرمائش کے مطابق اصلاحاتی عمل شروع کیا جا سکے۔

محمود عباس 19 سال قبل فلسطینی اتھارٹی کے صدر منتخب کروائے گئے تھے۔وہ عالمی سطح پر فلسطینیوں کا سب سے قابل قبول چہرہ ہیں تاہم فلسطینیوں میں ان کی مقبولیت حماس کی عوام میں پذیرائی کے ساتھ تصادم کا شکار ہے۔

غزہ جنگ کے بعد کے منظر نامے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نامزد کردہ وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت فلسطینی اتھارٹی شفافیت کو بہتر بنانے اور بدعنوانی سے لڑنے، نظام انصاف اور سیکیورٹی کے شعبوں کی بحالی اور پبلک سیکٹر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات متعارف کرائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا، عوامی مالیات کو مضبوط کیا جائے گا اور اقتصادی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

خیال رہے اصلاحات کے وعدے بڑے پیمانے پر ان کے پیشرو محمد شتیہ کی طرف سے کیے گئے وعدوں سے کافی مطابقت رکھتے ہیں۔

محمد شتیہ نے وزارت عظمی سے ماہ فروری میں استعفیٰ کا اعلان کیا تھا تاکہ محمود عباس کو بدلے ہوئے حالات میں عالمی تقاضے کے مطابق غزہ میں کر دار ادا کرنے پر فلسطینی اتھارٹی کو تیار کر سکیں۔

خیال رہے فلسطینی اتھارٹی غزہ میں مزاحمتی گروپ حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے درمیان توسیع شدہ کردار کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں نے ' پی اے ' پر زور دیا ہے کہ وہ 30 سال سے زائد عرصہ قبل عبوری اوسلو امن معاہدے کے تحت قائم ہونے والے فلسطینیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے وسیع اصلاحات نافذ کرے۔

اس تناظر میں غزہ کی حکمرانی کے حصول کے لیے متوجہ ہونے کے بعد اصلاحات کرنے کی عجلت آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں