’محدود حملے کے باوجود اسرائیل نےایران کو بتا دیا کہ وہ کیا کچھ کرسکتا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایران پر اسرائیل سے منسوب حملہ محدود تھا لیکن اس نے تہران کے رہ نماؤں کو حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی تل ابیب کی صلاحیت کے بارے میں واضح انتباہی پیغام بھیجا ہے۔

دونوں قدیم دشمنوں نے مشرق وسطیٰ میں دہائیوں سے طویل شیڈو جنگ لڑی ہے جس کے دوران اسرائیل نے ایران کے اندر خفیہ کارروائیاں کیں جب کہ ایران نے غزہ میں حماس اور لبنانی حزب اللہ سمیت اسرائیل مخالف مسلح گروہوں کی حمایت کی۔

لیکن جب کہ حالیہ ہفتوں میں بڑھتا تناؤ فی الحال کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔کولڈ وارایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ کھلے تنازعے میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتی ہے۔

موجودہ کشیدگی 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل میں کیے گئے حملے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس کے بعد غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی نے ایران اور اسرائیل کو اعلانیہ جنگ میں لا کھڑا کیا۔

تہران نے اسرائیل پر ایک فضائی حملہ کرنے کا الزام لگایا جس نے یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا۔ اس میں سات ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

ایران نے اسرائیل پراس کی تاریخ کا پہلا براہ راست حملہ کرتے ہوئے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا، جن میں سے بیشتر کو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے مار گرایا۔

اس حملے پر ایک بڑے اسرائیلی ردعمل کے خدشے کی روشنی میں جس کے بعد ایک اور ایرانی ردعمل سامنے آسکتا ہے اسرائیل نے امریکی دباؤ کے جواب میں ایک محدود آپشن کا سہارا لیا۔

ایرانی یاد دہانی

’نیو یارک ٹائمز‘ نے اسرائیلی اور ایرانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اس کا ہدف S-300 دفاعی میزائل سسٹم کا ریڈار سسٹم تھا جو ایران نے روس سے حاصل کیا ہے۔ یہ اصفہان گورنری کے ایک فضائی اڈے پر واقع ہے جہاں نطنز یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری ہے۔

اگرچہ اس حملے کا ماخذ پوری طرح سے واضح نہیں ہے، لیکن یہ کم از کم ایک میزائل کے ذریعے کیا گیا جو ایک جنگی طیارے سے داغا گیا۔ اس طیارے نے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی اور چھوٹے حملہ آور ڈرون کا استعمال کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے اندر اس کارروائی کا مقصد فضائی دفاع کو الجھا دینا تھا۔

اپنی معمول کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل نے ایران پر حملے یا شام میں یکم اپریل کے حملے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔

امریکہ میں کلیمسن یونیورسٹی کے ایک لیکچرر آرش عزیزی نے کہا کہ "آپریشن کا مقصد واضح طور پر ایران کو یاد دلانا تھا کہ اسرائیل کیا کر سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اصفہان کے قریب فوجی اڈے کا انتخاب بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ صوبے میں تمام جوہری تنصیبات کے لیے فضائی دفاعی معاونت کا بنیادی ذریعہ ہے"۔

موساد ایران کے اندرموجود

ایران برسوں سے اسرائیل پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ انٹیلی جنس سروس (موساد) کے ذریعے اس کی سرزمین کے اندر تخریب کاری کی کارروائیاں کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاید سب سے مشہور آپریشن 2020 میں ممتاز ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کا ایک مشین گن کا استعمال کرتے ہوئے قتل تھا جسے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں نے ایران کے اندرکیا تھا تاہم اسے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے دور سے چلایا گیا تھا۔

حزب اختلاف کے ایران انٹرنیشنل ٹی وی چینل سمیت کچھ میڈیا پلیٹ فارمز کے مطابق اسرائیلی ایجنٹوں نے پاسداران انقلاب کے ارکان کو حراست میں لیا اور انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کے لیے ایرانی حدود میں ان سے پوچھ گچھ کی۔

حساس مقامات کے ارد گرد پراسرار دھماکوں کے بعد یہ شکوک بھی پائے جاتے ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے اندر ڈرون حملے کیے ہیں، جس کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی حکام نے اسرائیلی حملے کا مذاق اڑانے کی کوشش کی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے یہاں تک کہ کہا کہ اس اسرائیلی جوابی کارروائی بچوں کے کھیل کی طرح تھی۔

دریں اثنا سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اسرائیل پر حملے میں مسلح افواج کی "کامیابی" کی تعریف کی۔

لیکن یروشلم انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ سکیورٹی میں ایرانی امور کے ماہر الیگزینڈر گرین برگ نے کہا کہ اسرائیل کا ہدف کا انتخاب بذات خود ایران کے اندر موساد کی موجودگی کا اشارہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ "اسرائیل کا پیغام یہ ہے کہ 'ہم ایران میں کہیں بھی حملہ کر سکتے ہیں، اس لیے کہ اصفہان ایران کے مرکز میں واقع ہے، یعنی نسبتاً دور ہے اور اسرائیل کو بخوبی معلوم ہے کہ وہ کہاں حملہ کر سکتا ہے"۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کی جانب سے فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرنے میں ناکامی کو منطقی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت آپ نقصان کی صحیح حد کو تسلیم کرتے ہیں آپ دشمن کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں"۔

اٹلانٹک کونسل فار ریسرچ کی ہیلی ڈیگریس نے تصدیق کی کہ اگر اسرائیل نے حملے میں چھوٹے کواڈ کاپٹرز کا استعمال کیا تو "یہ چھوٹے ڈرون ممکنہ طور پر ایران کے اندر سے لانچ کیے گئے تھے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے "موساد کی ایران کےموجودگی کی ایک اور مثال ہے اور اسے اندازہ ہوتا ہے کہ موساد ایران کے اندر موجود ہے‘‘۔

اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے۔ اسرائیل ایران کے خلاف مزید جوابی حملے کر سکتا ہے۔ اگر اسرائیل غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح پر زمینی حملہ کرتا ہے تو کشیدگی کی سطح دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں