اختلافات ختم کرنے کے لیے حماس اور تحریک فتح کی قیادت کا دورہ چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی تنظیم حماس کے رہ نما خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ حماس 1967ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کے قیام۔غزہ اورمغربی کنارے میں مشترکہ حکومت کے قیام اور تنظیم آزادی فلسطین میں شمولیت کی شرط پر اسرائیل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ عرصے کی جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔

خلیل الحیہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حماس اور فتح چین میں مصالحتی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

"اندرونی تقسیم کا خاتمہ"

عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ حماس اور فتح تحریکیں چین میں ملاقات کا اہتمام کر رہی ہیں تاکہ دونوں جماعتوں کے درمیان قربت پیدا کی جا سکے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ملاقات کل بیجنگ میں ہوگی۔ میٹنگ میں اندرونی تقسیم کو ختم کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس اجلاس میں فتح کی مرکزی کمیٹی کے ارکان عزام الاحمد اور سمیر الرفاعی اور حماس تحریک کے رہ نما موسیٰ ابو مرزوق اور حسام بدران بھی شرکت کریں گے۔

ذرائع کے مطابق جس اہم مسئلے پر بات کی جائے گی وہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان اختلافات کا خاتمہ ہے۔

یہ پیش رفت حماس رہ نما خلیل الحیہ کے استنبول سے ’اے پی‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آئی ہے۔ الحیہ نے کہا تھا ان کی جماعت اسرائیل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ مدت کے لیے جنگ بندی پر رضامندی اور ہتھیار پھینک کر سیاست میں آنے کے لیے تیار ہے بہ شرطیکہ اسرائیل 1967ء کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کےقیام کی ضمانت دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس "مغربی کنارے اور غزہ میں ایک مکمل خودمختار فلسطینی ریاست اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو قبول کرے گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہوا تو حماس کا عسکری ونگ تحلیل ہو جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ ’’قابض اسرائیل کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے تمام تجربات بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے آزادی حاصل کی اور اپنے حقوق اور اپنی ریاست حاصل کی تو وہ سیاسی جماعتوں میں تبدیل ہوگئے اور ان کا دفاع کرنے والی فورسزقومی فوج میں تبدیل ہوگئیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ تحریک غزہ اور مغربی کنارے کے لیے متحدہ حکومت بنانےاور تحریک فتح کی سربراہی میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں شامل ہونا چاہتی ہے۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کے دو ریاستی حل کے واضح طور پر اختیار کرنے سے فلسطینی اسرائیل تنازعہ کا خاتمہ ہو جائے گا یا اسرائیل کو تباہ کرنے کے تحریک کے بیان کردہ ہدف کی جانب ایک عارضی قدم ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ماضی میں حماس کے مطالبات کو بارہا مسترد کیا تھا اور زور دیا تھا کہ "حماس کو مکمل طور پر شکست دینے تک اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں