اسرائیلی جنگی کونسل: رفح میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی تاریخ پر بحث

رفح سے نکالے جانے والوں کو وصول کرنے کے لیے خیمہ شہر کا قیام عمل میں لایا جارہا، فوٹیج سامنے آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی کونسل فوری طور پر آج جمعرات کو رفح میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی تاریخ پر تبادلہ خیال کرے گی۔ رفح میں فوجی آپریشن کی تیاریوں مکمل کرنے کے حوالے سے رپورٹس کے دوران اسرائیل کے ایک سینئر عہدیدار نے بدھ کو ٹی وی چینل ’’ i24news ‘‘ کو بتایا آنے والے ہفتوں میں انخلاء شروع کرنے کی تیاریاں ہیں۔ کل وار کونسل کا اجلاس ہے۔ توقع ہے آپریشن کے آغاز کی تاریخ کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔

یاد رہے بدھ کے روز رفح میں آپریشن کی تیاروں کے حصوں کے طور پر ’’ کارمل‘‘(2) ڈویژن اور ’’بتاح‘‘(679) ڈویژن کی تربیتی مشقوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان ڈویژنوں نے اپنی مشقوں کو دو گنا کردیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس تناظر میں آج اسرائیل دو بین الاقوامی وفود کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ اقوام متحدہ کے سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کا ایک وفد اور ریڈ کراس کے امدادی محکمے کے سربراہ پر مشتمل ایک وفد پٹی میں داخل ہوگا، اسی دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے دو ریزرو بٹالین کو غزہ میں بلانے کا اعلان کیا جا‏‏‏‏‏‏‏ئے گا۔

رفح شہر میں فوج بھیجنے کی تیاری

اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے شہر رفح میں فوج بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیل رفح کو حماس کا آخری گڑھ سمجھتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ رفح میں پناہ لینے والے بے گھر فلسطینیوں کو نکالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

رفح سے لوگوں کے انخلا کرنے والوں کے لیے بنایا گیا  خیمہ کیمپ
رفح سے لوگوں کے انخلا کرنے والوں کے لیے بنایا گیا خیمہ کیمپ

وسیع پیمانے پر گردش کرنے والے اخبار "اسرائیل ہیوم" نے حماس کے ساتھ ناکام جنگ بندی مذاکرات کے بعد اسرائیلی حکومت کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا کہ امریکا سے اختلافات کے باعث کئی ہفتوں سے ملتوی رفح پر حملہ کرنے کا آپریشن بہت جلد ہوگا۔

بعض اسرائیلی میڈیا نے ایسی رپورٹس بھی پیش کی ہیں جن میں کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر موجود ایسی فوٹیج کی طرف اشارہ کیا جس میں رفح سے نکالے جانے والوں کے استقبال کے لیے خیمہ شہر کا قیام دکھایا گیا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے مصری سرحد سے ملحق شہر رفح میں 10 سے زیادہ فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ یہ فلسطینی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بھاگ کر رفح پہنچے ہیں۔ رفح پر ممکنہ آپریشن کے حوالے سے عرب دنیا اور مغربی طاقتوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی دباؤ کے باعث اسرائیل نے رفح میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ نیتن یاہو حکومت کا کہنا ہے کہ رفح میں حماس کی چار مکمل جنگی بٹالین موجود ہیں۔ ان بٹالینز کو حماس کے ہزاروں جنگجوؤں سے کمک ملی جو دوسرے علاقوں سے نکل رہے ہیں۔

اسرائیلی حکومت سمجھتی ہے کہ غزہ کی جنگ میں فتح اس وقت ہی ہوگی جب رفح پر کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا، حماس کا خاتمہ کردیا جائے گا اور اپنے یر غمالیوں کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔ واضح رہے حماس نے شہر رفح میں جنگی بریگیڈز کی موجودگی کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سات اکتوبر سے شروع جنگ کو 201 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ منگل کو لڑائی کے 200 دن گزرنے پر دو ماہ سے غائب رہنے والے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ ایک مرتبہ پھر سامنے آئے اور انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اس مہم میں "شرم اور شکست" کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔ بدھ کو جنگ کے 201 ویں دن غزہ کے حکام نے بتایا کہ اب تک اس لڑائی میں صہیونی فوج 34262 فلسطینیوں کو شہید اور 77229 کو زخمی کرچکی ہے۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں 1139 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور 253 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ 27 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے غزہ میں زمینی کارروائی شروع کردی تھی۔ اس زمینی آپریشن میں بھی 262 اسرائیلی فوجی ہلاک کردئیے گئے ہیں۔ اس دوران سات دنوں کی عارضی جنگ بندی کے دوران فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا تھا۔ اس کے باوجود 133 کے لگ بھی یرغمالی حماس کی قید میں ہیں۔ ان میں سے بھی بہت سے یرغمالی ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں