امریکہ کا غزہ میں انسانی بنیادوں پر کام کے لئے اپنا نمائندہ تبدیل کرنے کا فیصلہ

سیٹر فیلڈ کی جگہ لیزے گرانڈے لیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے غزہ کے لئے اپنے امدادی امور کے لئے مقرر کر دہ نمائندے ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ جلد ہی یہ ذمہ داری چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے۔ ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کے دنوں میں امریکہ نے غزہ میں جنگ کی تباہ کاریوں کے باوجود زیادہ مدت امدادی کارروائیوں سے دوری رکھی۔ حتی کہ ' اونروا' کے لیے فنڈنگ بھی بند رہی۔ البتہ پچھلے دنوں فضا سے خوراک گرانے کے علاوہ بحری راستے سے خوراک کی ترسیل کا عبوری اہتمام کرنے میں مدد کی۔

سیٹر فیلڈ کا اس امریکی فیصلے سے محض ایک روز اسرائیل کے بارے میں ایک بیان سامنے ایا تھا ۔ جس میں انہوں نے اگرچہ حالیہ دنوں میں امدادی کارروائیوں کے تیز کرنے میں اسرائیل کے تعاون کی تعریف کی مگر امریکی ایلچی نے ابھی اسرائیل کے لیے کہا کہ اسے بہت کچھ کرنا چاہئیے۔ تاکہ غزہ کے جنگ زدہ اور لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کو امداد مل سکے۔ اس بیان کے اگلے ہی روز ان کی تبدیلی کے اطلاع سامنے آئی ہے۔

ان کی جگہ امکانی طور پر سیٹر فیلڈ کی جگہ لینے والی لیزے گرانڈے ہیں جنگ زدہ اور خانہ جنگی کا شکار رہنے والے کئی ملکوں میں کام کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نےبخانہ جنگی کی گرفت میں رہنے والے یمن میں کام کیا ہے۔ جنوبی سوڈان میں خدمات انجام دی ہیں اور کئی متحارب جنگجو گروپوں کی موجودگی میں عراق میں بھی کام کر چکی ہیں۔ اب انہیں غزہ میں بھیجے جانے کی تیاری کی ذرائع نے تصدیق کی ہے۔

لیزے گرانڈے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کا بھی تجربہ رکھتی ہیں ۔ وہ پچھلے چھماہ کے لیے غزہ میں امریکی امدادی ایل ی رہنے والے سیٹر فیلڈ کی جگہ لیں گی۔ سیٹر فیلڈ کو مشرق وسطی میں انسانی ایشوز کو بھی دیکھنے کی ذمہ داری کے ساتھ تعینات کیا گیاتھا۔ گرانڈے ان دنوں امریکہ کے ادارے ' انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

واضح رہے اقوام متحدہ بھی دوسرے امدادی اداروں کی طرح مسلسل یہ شکایت کرتا رہا ہے کہ اسرائیل امدادی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اسی طرح ' اونروا ' کی کئی اہم ملکوں کی طرف سے فنڈنگ بند ہونے کی وجہ سے بھی یو این ایجنسی کی مشکلات اور غزہ کے لوگوں کے مصائب بڑھے رہے ہیں۔ تاہم تحقیقات میں واضح ہو گیا ہے کہ ' اونروا ' کے کارکنوں پر اسرائیلی الزام کے لئے کوئی ثبوت سامنے نہیں ائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں