حزب اللہ-اسرائیل لڑائی کے خاتمےکے لیے سفارتی معاہدے کےسنجیدہ امکانات:امریکی سفارتکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک سینئر امریکی سفارت کار نے بدھ کو کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد پار سے لڑائی کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کا سنجیدہ امکان ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے فوراً بعد اسرائیل کو راکٹ اور میزائل سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے جنوبی لبنان پر گولہ باری کی ہے اور حزب اللہ کے متعدد مزاحمت کاروں اور سینیئر اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیل نے شام کی سرحد کے قریب وادئ بقاع میں ہتھیاروں کے ذخائر اور حزب اللہ کے دیگر انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

سرحد پار لڑائی شروع ہونے کے بعد امریکہ نے صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوری مداخلت کی۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان آخری مرتبہ 2006 میں بھرپور طاقت سے جنگ لڑی گئی تھی جب فریقین میں تعطل پیدا ہوا تھا۔

لیکن حزب اللہ نے اس کے بعد سے زیادہ جدید اور بہتر ہتھیار حاصل کر لیے ہیں جیسا کہ حالیہ ہفتوں میں متعدد اسرائیلی ڈرونز کو گرانے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے اندر گہرائی میں واقع شہروں کو نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے۔

قریب شرق اوسط امور کے لیے معاون وزیرِ خارجہ باربرا لیف نے کہا، "کشیدگی میں اضافے کا امکان شدید ہے۔" البتہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ایسا نہ ہو۔

لیف نے ایک فون کال کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا، "کشیدگی میں زیادہ رسمی طریقے سے خاتمے کا بالکل امکان ہے اور پھر بالآخر سرحد کی (حدبندی کی) وضاحت کے لیے سفارتی کوشش کی طرف بڑھنا ہے۔"

بائیڈن نے اپنے ایک اعلیٰ معاون اموس ہوچسٹین کو مقرر کیا کہ وہ ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کرے جس سے فریقین کے درمیان دشمنی ختم ہو۔ ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور حال ہی میں شدید تر حملوں کا ایک نیا مرحلہ دیکھا گیا ہے۔

لیف نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کی طرف سے شروع کردہ حملوں کا جواب دینے میں "محتاط رہے"۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن نے مختلف اتحادیوں اور شراکت داروں کو استعمال کیا ہے کہ وہ تنازعہ کو مزید وسیع دینے کے خلاف حزب اللہ کو براہِ راست اور بالواسطہ تنبیہ کریں۔

اسرائیلی جنگی طیارے سات اکتوبر کے بعد چند گھنٹوں میں لبنان کے اندر پیشگی حملہ کرنے کے لیے تیار تھے کیونکہ حزب اللہ کی طرف سے شمالی سرحد سے اسی طرح کے حملے کا خدشہ تھا۔ بائیڈن اور دیگر امریکی حکام نے اسرائیلیوں کو اس طرح کی کارروائیوں کے خلاف قائل کیا اور یقین دلایا کہ ان باتوں کی تصدیق و تائید کے لیے کوئی امریکی انٹیلی جنس نہیں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں