سعودی عرب میں انسانی اسمگلنگ کی نشاندہی کے لیے 28 انفارمیشن ایکسچینج یونٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد الباسامی نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں تعاون اور اشتراف سے مملک میں انسانی اسمگلنگ کے جرائم کی روک تھام میں مدد ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پبلک سکیورٹی نے اسمگلنگ کی رپورٹوں کے حصول اور معلومات کے حصول کے لیے قومی کمیٹی میں شامل ہوکر کمیونٹی کی رہ نمائی کو بہتر بنایا ہے۔

انہوں نے ریاض میں ہیومن رائٹس کمیشن کے زیر اہتمام ایک سمپوزیم میں کہا کہ پبلک سکیورٹی کے پاس آس پاس کے لوگوں میں اسمگلنگ کے جرائم کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنے کے لئے 28 یونٹ کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ملک انسانی اسمگلنگ کے جرائم سے نمٹنے کے لیے بہترین عالمی طریقوں میں دلچسپی کو بڑھا رہا ہے۔

یہ سمپوزیم سعودی عرب کی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔ اس ضمن میں سعودی عرب کی وزارت داخلہ ، وزارت انسانی وسائل اور معاشرتی ترقی ، پبلک پراسیکیوشن ، ہیومن رائٹس اتھارٹی ، انفرادی جرائم کے انسداد کی ذمہ دار کمیٹی ، متعدد عالمی تنظیمیں جن میں خلیجی رابطہ کمیٹی برائے انسداد انسانی اسمگلنگ، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف"، سعودی عرب میں اقوام متحدہ کے رہائشی کوآرڈینیٹر آفس ، منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر اور بین الاقوامی ایمی گریشن آرگنائزیشن مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں پبلک سیکیورٹی کے ڈائریکٹر البسامی نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے جرائم تمام فریقوں کے مابین تعاون اور اور مشترکہ ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام مقامی اور بین الاقوامی ادارے تعاون کے پابند ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں