سیٹلائٹ مناظر میں سیلاب کے بعد امارات میں چھوٹی جھیلوں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات میں شدید بارش کی لہرکے خاتمے کے ایک بعد ’ناسا‘ نےسیلاب سے پہلے اور بعد میں دبئی اور ابوظبی کے کچھ حصوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔

چھوٹی جھیلیں

امریکی جیولوجیکل سروے کے لینڈ سیٹ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ناسا کی ارتھ آبزرویٹری کی جانب سے جمعے کے روز لی گئی تصاویر میں امارات کے صحراؤں اور زمین کی تزئین میں پانی کے بڑے ٹکڑوں کو دکھایا گیا، جہاں پہلے کوئی نہیں تھا۔

پانی کے یہ تالاب چھوٹی جھیلوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔

’ناسا‘ نے اپنی ارتھ آبزرویٹری ویب سائٹ پر لکھا کہ "کچھ علاقے 19 اپریل کو زیر آب رہے، جب لینڈ سیٹ 9 سیٹلائٹ طوفانوں کے بعد پہلی بار اس علاقے کے اوپر سے گذرا"۔

متحدہ عرب امارات میں اس ہفتے کے شروع میں طوفانی بارشوں نےکچھ شہروں میں غیرمعمولی بارشیں ہوئیں۔

دوسری تصویر جو OLI-2 (آپریشنل لینڈ امیجر 2) سیٹلائٹ کا استعمال کرتے ہوئے لی گئی ہے امارات کے کئی حصوں میں سیلاب کا پتا دیتی ہے۔

ریکارڈ بارش

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے اسکول اور کمپنیاں بند ہوگئیں اور سینکڑوں پروازیں معطل ہوگئیں۔

جبکہ حکام نے اعلان کیا کہ طوفان کے چند روز بعد زندگی مکمل طور پر معمول پر آ گئی ہے۔

بدلے میں متحدہ عرب امارات میں موسمیات کے قومی مرکز نے کہا کہ ملک کے مشرقی حصوں میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں 250 ملی میٹریا 10 انچ بارش ہوئی۔

اس کے برعکس متحدہ عرب امارات میں عام طور پر پورے سال کے دوران سالانہ 5.5 سے 8 انچ بارش ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں