فوجی افسران کی گرفتاری کی مہم چلانے پراسرائیل فلسطینی اتھارٹی پر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی پرالزام عاید کیا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اسرائیلی فوجی افسران اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کی کوشش کررہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی تنظیمیں اسرائیل کو اسلحہ کی برآمد کو روکنے کے لیےراستے تلاش کررہی ہی ہیں۔ اس حوالے سے اسرائیل کے سخت گیر وزیر خزانہ بزلیئل سموٹریچ نے فلسطینی اتھاری کے خلاف ایک نئے اقدام کی تجویز پیش کی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی تجویز

سموٹریچ نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اسے تنہا چھوڑنے کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ "ان دنوں فلسطینی اتھارٹی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے سینیر اسرائیلی شخصیات کے خلاف گرفتاری کے فیصلے جاری کرانے کے لیے کام کر رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خطرناک اور غیر معمولی اقدام ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ سرخ لکیرکی خلاف ورزی ہے۔

"یو ایس بیک مینجمنٹ"

انہوں نے دعوی کیا کہ "فلسطینی اتھارٹی نے آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے، اسرائیلی فوج اور دیگر سینیر افسران پر یوروپی ممالک میں پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اسرائیلی فوجی عہدیداروں پرپابندیاں عاید کرنے سے گریز غزہ جنگ میں اسرائیل کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

نیتن یاہو نے "تمام بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اٹھائے گئےاقدامات کے بارے میں آگاہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ "میں اسرائیلی فوجیوں اور اس کے افسران کو نظرانداز نہیں کروں گا۔ نہ ہی میں کسی معاندانہ اتھارٹی کی بقا میں حصہ ڈالوں گا جو اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔

ٹیکس اور ماہانہ منتقلی

یہ قابل ذکر ہے کہ 1990ء کی دہائی میں ہونے والے عارضی امن معاہدوں کے مطابق اسرائیلی وزارت خزانہ فلسطینیوں کی جانب سے ٹیکس جمع کرتا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کو ماہانہ منتقلی کرتا ہے۔

تاہم 7 اکتوبر 2023ء کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد ادائیگیوں پر تنازعہ پیدا ہوا۔

2 نومبر 2023ء کو اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکس محصولات کی منتقلی کی کوشش کرے گا مگر غزہ میں جہاں حماس کی حکومت قائم تھی کو یہ رقوم منتقل نہیں کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں