اردن: شادی کے خیمے لگانے کے لیے جانے والے تین نوجوانوں کی کفن میں واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی اردن کے علاقے وادی موسیٰ میں کیٹرنگ کی دکان پر کام کرنے والے 3 نوجوانوں کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتیجے میں تینوں موقعے پر ہی دم توڑ گئے۔

بدھ کی رات پیش آنےوالے اس واقعے پرملک بھر میں صدمے کی لہر دوڑ گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والے نوجوانوں میں عواد محمد عواد المحامید کی تاریخ پیدائش 1996ء کی تھی۔یاسر محمد صدیق یونس کی پیدائش 1986ء میں پیدا ہوئے اور مصری شہریت کے حامل تھے۔ نوجوان حمزہ سلیمان الشمری کی پیدائش 1996ء پیدا ہوئے۔

نوجوان الشمری کے ایک عزیز دار نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ تینوں نوجوان ایک دکان میں کام کرتے ہیں جو ٹرے اور شادی کے خیمے لگاتی ہے۔ وہ دکان کی ٹرانسپورٹ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں وہ تینوں جاں بحق ہوگئے۔

بترا میں کوئین رانیہ عبداللہ ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر موسیٰ الشلبی نے بتایا کہ متوفی شادی کے خیمے لگانے کا کام کرتے تھے۔ ان کی گاڑی "نزول الحرفیہ" نامی علاقے میں ایک کھڑی ڈھلوان پر خراب ہو گئی اورکالم سے ٹکرانے کے بعد گہری کھائی میں جا گری۔

مرحوم نوجوان حمزہ سلیمان الشمری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی وفات سے چند گھنٹے قبل لکھی تھی۔ ’’اس زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! تم چاہو، کیونکہ تم جس سے چاہو محبت کرو، کیونکہ تم الگ ہو جاؤ گے اور جو چاہو کرو کیونکہ تمہیں اس کا اجر ملے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں