ایران کواسرائیل پرجوابی حملہ کرنے کی سزا،امریکہ وکینیڈا کے بعدبرطانیہ کی بھی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل پر حالیہ ایرانی حملے کے بعد برطانیہ نے بھی ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی صنعتوں کے خلاف پابندیوں کے نئے پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ایرانی ڈرون اور میزائل بنانے کی صنعتوں کو پابندیوں کا نشانہ بنانے کا اعلان امریکہ اور کینیڈا نے کیا تھا۔

جمعرات کے روز برطانیہ بھی امریکہ اور کینیڈا کا اس معاملے میں ساتھی بن گیا ہے۔تہران نے اسرائیل کی طرف سے دمشق میں اپنے قونصل خانے پر یکم اپریل کو ہونے والے حملے کے جواب میں اسرائیل پر اپنا پہلا براہ راست فوجی حملہ کیا تھا۔

ایران کی طرف سے اسرائیل کو دیے گئے جواب کے بعد بالعموم ایرانی پاسداران انقلاب کور کو ہی اس حملے کا ذمہ دار قرا دیا گیا ہے۔ واضح رہے دمشق میں پاسداران انقلاب کے سات ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔جن میں دو سینئیر حکام بھی شامل تھے۔

بعد ازاں ایران کے اسرائیل پر کیے گئے بڑے پیمانے پر حملے میں 300 سے زیادہ ڈرون اور میزائل شامل تھے، تاہم اسرائیل اور اس کے اتحادیوں بشمول امریکہ و برطانیہ نے بیشتر ڈرونز اور میزائلوں کو راست میں ہی روک دیا تھا۔ نتیجتا اسرائیل کو بہت کم نقصان پہنچ سکا۔

تاہم امریکہ اور برطانیہ نے گزشتہ ہفتے ایران پر بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں ایرانی ڈرون سازی کی صنعت سے جڑے افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانیہ کے ' فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیویلپمنٹ آفس' نے کہا کہ لگائی گئی تازہ ترین پابندیاں دو افراد اور چار کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گی جو ایران کے ڈرون کی تیاری کے نیٹ ورک میں شامل ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف تجارتی پابندیوں کو اس کے ڈرونز اور میزائلوں کی پیداوار میں استعمال ہونے والے اجزاء کی برآمد پر نئی پابندیاں متعارف کراتے ہوئے بھی بڑھایا جائے گا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے ایک بیان میں کہا ہے ' ایرانی حکومت کے اسرائیل پر خطرناک حملے سے ہزاروں شہریوں کی ہلاکت اور خطے میں وسیع تر کشیدگی کا خطرہ ہے۔ اس لیے ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ ساتھ ہیں اور ایران کے ان مہلک ہتھیاروں کو تیار کرنے اور برآمد کرنے کی صلاحیت پر پابندیوں کو مزید سخت کرتے رہیں گے۔'

خیال رہے برطانیہ نے پہلے ہی ایران پر 400 سے زیادہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں ایرانی پاسداران انقلاب کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایران کے فوجی ڈرون پروگرام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے کہا ' امریکہ، اپنے برطانوی اور کینیڈین شراکت داروں کے ساتھ پوری ہم آہنگی کے ساتھ، ان لوگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتا رہے گا جو ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کریں گے۔'

جمعرات کے روز ایران پر لگائی پابندیاں ان مشترکہ پابندیوں کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہیں جو واشنگٹن نے ایران کے یو اے وی پروگرام میں شامل 16 افراد اور دو کمپنیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے اجزاء کو نشانہ بناتے ہوئے لگائی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں