غزہ سے متصل عارضی امریکی بندرگاہ کی تعمیر ، اقوام متحدہ کی ٹیم نے دورہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی کے ساتھ سمندر میں عارضی بندر گاہ بنانے کے امریکی منصوبے کا اقوام متحدہ کی ٹیم نے دورہ کیا۔ اس دوران آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم تھوڑی افراتفری کے بعد اقوام متحدہ کی ٹیم زیر تعمیر عارضی بندر گاہ کا دورہ مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

بتایا گیا ہے کہ اس زیر تعمیر بندر گاہ سے ایک سو میٹر اور تین سو میٹر کے فاصلے پر دو گولے فائر ہوئے تھے۔ مگر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی سے جڑے اس سمندر میں بندر گاہ غزہ میں لوگوں کو بھوک اور قحط سے بچانے کے لیے تعمیر کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کی طرف سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی میں بھی جزوی امداد کی ترسیل جاری رہے۔

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروپ اس امریکی بندر گاہ کو ایک گھاٹ کے بجائے اسرائیل کی مدد کے لیے فلسطینیوں کے خلاف ایک نئی امریکی گھات سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ امریکی بندر گاہ اسرائیل کے حق میں ہی استعمال ہو گی۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام بھی غزہ کے جنگ زدہ فلسطینیوں کے لیے فضائی اور بحری راستوں سے خوراک اور امداد کی ترسیل کو زمینی راستوں سے پہنچائی جانے والی امداد کے مقابلے میں یہ کہہ کر مسترد کرتے رہے ہیں کہ یہ زمینی راستوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔

اب جبکہ یہ نسبتآ چھوٹی امریکی بندر گاہ تکمیل کے قریب ہے تو اقوام متحدہ کی ایک ٹیم نے بدھ کے روز اس کا دورہ کیا ۔ اسی دوران علاقے علاقے میں کچھ دیر کے لیے آگ بھڑک اٹھی اور یو این او کی ٹیم کو بنکر میں پناہ لینی پڑی۔

 ورلڈ سینٹرل کچن کی طرف سے فراہم کردہ اس تصویر میں غزہ کی پٹی کی ایک عارضی بندرگاہ پر، 16 مارچ، 2024 بروز ہفتہ کو کرین سے کھانے کے پیکجز اتارے جا رہے ہیں
ورلڈ سینٹرل کچن کی طرف سے فراہم کردہ اس تصویر میں غزہ کی پٹی کی ایک عارضی بندرگاہ پر، 16 مارچ، 2024 بروز ہفتہ کو کرین سے کھانے کے پیکجز اتارے جا رہے ہیں

یہ بات اقوام متحدہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتائی ہے۔ ترجمان کے مطابق ایک سو اور تین سو میٹ کے فاصلے پر دو راؤنڈ اترے تھے۔ لیکن کسی کو کوئی چوٹ نہیں آئی اور ہماری ٹیم آخر کار دورہ جاری رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔'

پینٹاگون کی طرف سے جمعرات کو بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ایک بندر گاہ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔جس کا مقصد غزہ کو اشد ضروری امداد کی ترسیل بڑھانا ہے۔

واضح رہے غزہ چھوٹے ساحلی علاقے کو چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے اسرائیلی بمباری ہے نیز اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کی وجہ سے بد ترین تباہی ہوئی ہے، جس سے ہزاروں فلسطینی جاں بحق شہری آبادی کو زندہ رہنے کے لیے انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائڈر نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ تصدیق کر تے ہیں کہ امریکی فوجی جہازوں نے سمندر میں عارضی گھاٹ کے ابتدائی مراحل کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ امریکی گھاٹ مئی کے اوائل میں کام کر دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں