امدادی سامان لے کرغزہ جانے کی کوشش کرنے والا 'فریڈم فلوٹیلا' ترکیہ میں بلاک کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

'فریڈم فلوٹیلا' نامی بحری جہاز کو ترکیہ میں ہی بلاک کر دیا گیا۔ ترکیہ سے غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جانے کی کوشش کرنے والا 'فریڈم فلوٹیلا' ہفتہ کے روز اس وقت ترکیہ میں ہی بلاک کر دیا گیا ہے جب گنی بساؤ نے اپنے جہازوں کے اس امدادی مشن کے ساتھ غزہ جانے کے بارے میں عدم اتفاق ظاہر کیا۔

'فریڈم فلوٹیلا' کے منتظمین نے اس صورتحال کو گنی بساؤ پر اسرائیلی دباؤ کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'گنی بساؤ نے غزہ کے خوراک سمیت زندگی کی ضروریات سے محروم فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی دباؤ قبول کر لیا ہے۔

'فلوٹیلا' کے اس سمندری سفر کو منظم کرنے کی کوشش کرنے والی مختلف این جی اوز کی ایسوسی ایشن نے گنی بساؤ کے اس عدم تعاون کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ اب وہ 'فریڈم فلوٹیلا' کے ذریعے غزہ میں امدادی سامان پہنچانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔

این جی اوز کی ایسوسی ایشن کے مطابق 'ہم دکھ سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ گنی بساؤ نے اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے میں آئے غزہ کے لوگوں کی نسل کشی میں خود کو شریک کر لیا ہے۔ کیونکہ اسرائیل غزہ کے ان فلسطینیوں کو جانتے بوجھتے خوراک اور زندگی دونوں سے محروم رکھنے کی کوشش میں ہے۔ جس کی بات مان کر گنی بساؤ نے 'فریڈم فلوٹیلا' کے لیے اپنے پرچم کو لہرانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔'

خیال رہے گنی بساؤ انٹرنیشنل شپ رجسٹری نامی ادارے نے بڑے واضح اور دوٹوک انداز میں این جی اوز کی ایسوسی ایشن کو آگاہ کیا ہے کہ ہم نے دو بحری جہازوں سے گنی بساؤ کا پرچم واپس لے لیا ہے کہ یہ ایک خالص سیاسی اقدام ہے۔ خیال رہے ان میں سے ایک جہاز پچاس ہزار ٹن سے زیادہ امدادی سامان سے لدا ہوا تھا۔

این جی اوز کی اس ایسوسی ایشن نے گنی بساؤ کے اس عدم تعاون کے بعد یہ کہا ہے کہ گنی بساؤ کے حکام نے معلومات حاصل کرنے کے سلسلے میں بعض ایسے غیر معمولی مطالبے کیے تھے جو گنی بساؤ کے لیے اہم نہیں تھے۔ جن سے متعلق معلومات دینا درست نہیں ہو سکتا تھا۔ ان میں ممکنہ اضافی 'پورٹ کالز' ، کارگو سے متعلق معلومات اور جہاز کی آمد کی متوقع تاریخیں اور اوقات بھی شامل تھے۔

ایسوی ایشن کے حکام کا کہنا ہے کہ عام طور پر جہازوں کی مالک کمپنیاں یا حکومتیں اپنے جہازوں کی حفاظت اور ان کے ذریعے جانے والے سامان سے متعلق زیادہ فکر مند ہوتی ہیں۔

استنبول میں 'فریڈم فلوٹیلا' سے متعلق کی جانے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 'فریڈم فلوٹیلا' کے سفر کو اگر بلاک نہ کیا جاتا تو کم از کم 280 رضاکار جن میں وکلاء ، ڈاکٹر اور این جی اوز کے کارکن شامل ہوتے وہ 'فریڈم فلوٹیلا' کے ساتھ جاتے۔ تاہم اب 'فریڈم فلوٹیلا' کو ترکیہ میں بلاک کیے جانے کے بعد ان کارکنوں نے خوب نعرے لگائے کہ 'فلوٹیلا کو جھنڈا لگائیں ، ہم چلا لیں گے'

واضح رہے 2010 میں بھی ترکیہ کی طرف سے اسی نوعیت کے امدادی سامان کے ساتھ ایک بحری جہاز 'فریڈم فلوٹیلا' روانہ کیا گیا تھا۔ 14 سال بعد دوبارہ غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان بھیجے جانے کی کوشش ہوئی ہے۔ 2010 کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں غیر معمولی خرابی آگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں