نیتن یاہو حکومت کی اکثریت غزہ میں جنگ بندی کی مصری تجویز کی حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ روز مصری سکیورٹی کا وفد کی تل ابیب پہنچا جس نے غزہ میں جنگ بندی اور حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے تجاویز پیش کی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ اسرائیلی حکومت کے بیشتر ارکان نے مصری تجویز پر مثبت رد عمل دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے تحفظات کے باوجود کسی معاہدے پر پہنچنا ممکن ہے۔

ذرائع نے نشاندہی کی کہ نیتن یاہو حکومت کی اکثریت نے مصر کے ذریعہ تجویز کردہ ایک نئے معاہدے کی دفعات کی حمایت کی ہے اور اسے قیدیوں کے تبادلے اور عارضی جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے حماس کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

مصری منصوبے کے مطابق اسرائیلی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ "سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی سطح کی اکثریت نے تجاویز کی حمایت کی۔ ان تجاویز میں غزہ میں جنگ بندی کے ایام میں 20 سے 40 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ مزید قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

اگرچہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ نیتن یاہو جزوی معاہدے کو ترجیح نہیں دیتے اور وہ ایک جامع معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے تحت غزہ میں تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

جامع معاہدے کی تجویز نہیں

ایک عہدیدار نے نشاندہی کی کہ "ایک جامع معاہدے تک پہنچنا زیرغور نہیں کیونکہ حماس جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے اور اسرائیل اس پر تیار نہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن آئندہ منگل کو اسرائیل کادورہ کررہے ہیں۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکہ رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو مسترد کرتا ہے کیونکہ اس سے جنگ بندی کے مواقع کو بہت نقصان پہنچے گا اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ مشکل ہوجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں