امریکہ اسرائیل کو رفح پر حملے سے روکے : محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بالواسطہ انداز میں غزہ پر اسرائیلی حملے کو اسرائیل پر سات اکتوبر کے حماس کے حملے کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس حملے کا فائدہ اٹھایا ہے۔ تاہم انہوں نے امریکہ پر زور دے کر کہا کہ وہ اسرائیل کے رفح پر ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے زور لگائے۔ محمود عباس سعودی دارالحکومت ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم کی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

محمود عباس نے اپنے خطاب کے دوران عالمی طاقتوں سے بالعموم اور امریکہ سے بالخصوص اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو جنگی جرائم سے روکے۔انہوں نے خبر دار کیا کہ رفح پر چھوٹا ساحملہ بھی سب کو فلسطین چھوڑنے پر مجبور کر دے گا۔

محمود عباس نے عربی زبان میں بات کرتے ہوئے' فلسطین اگلے چند دنوں میں رفح پر ایک مکمل جنگ کا تسلط دیکھ رہا ہے۔ ' اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق رفح میں اس وقت غزہ کے پندرہ لاکھ بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

واضح رہے مبصرین غزہ سے متصل زیر تعمیر امریکی بندر گاہ کو اس تناظر میں ایک پیش رفت کے طور دیکھتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں پیش رفت ساتھ ساتھ ہوں گی۔اسی طرح برطانوی فوج کے زریعے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم کو بھی مبصرین ایک جامع منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ابھی کسی ملک نے بھی سرکاری طور زیر بحث نہیں لایا جارہا۔ لبنان کی سرحد پر جھڑپوں میں اضافہ بھی بلاوجہ نہیں ۔

صدر محمود عباس نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے فلسطین پر 75 سے جاری اسرائیلی قبضے کے بعد تازہ صورت حال پر بات کے لیے اس کانفرنس کی میزبانی کر کے گفتگو کا موقع دیا۔

تاہم انہوں نے حماس کے خلاف کو کھلی بات کیے بغیر کہا اسرائیل نے حماس کے سات اکتوبر کے حملے کا فائدہ اٹھایا ہے اور ایک انتہائی غیر متناسب جنگ غزہ پر مسلط کر دی۔ ہم سات اکتوبر سے اس حملے کی مذمت کر رہے ہیں کہ ہم ایک اور نکبہ نہیں چاہتے۔ کیونکہ اس سے پہلے 1948 اور 1967 میں ایسا ہو چکا ہے۔

ہاد رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ سات ماہ کو چھو رہی ہے۔ اس دوران اب تک 34356 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں بری تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ جبکہ غزہ پوری طرح ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

محمود عباس نے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا' بوریل نے غزہ کی صورت حال اور جنگ عظیم دوم کے دوران جرمنی کے شہروں کی صورت حال کا تقابل کر کے خوفناک تباہی پر تبصرہ کیا تھا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں