جنگ بندی مذاکرات کے لیے حماس کا وفد پیر کے روز قاہرہ پہنچے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کا مذاکراتی وفد پیر کے روز قاہرہ پہنچے گا تاکہ تقریباً سات ماہ سے غزہ اسرائیلی جنگ کو روکنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کا حصہ بن سکیں۔ حماس کے ایک ذمہ دار نے یہ بات اپنی شناخت سامنے نہ لانے کی شرط پر خبر رساں ادارے ' روئٹرز' کو بتائی ہے۔

حماس کے اس ذمہ دار کے مطابق پیر کو قاہرہ پہنچنے والا وفد ان تجاویز پر تبادلہ خیال کرے گا جو حماس نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملکوں قطر اور مصر کو پیش کی تھیں۔ نیز جن کے جواب میں اسرائیلی ریسپانس بھی سامنے آیا ہے۔ ان ساری تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں اس ذمہ دار نے حماس کی تازہ ترین پوزیشن یا موقف کے بارے میں کچھ شئیر نہیں کیا ہے۔

خیال رہے اسرائیل نے غزہ میں بد ترین تباہی مچانے اور لگ بھگ ساڑھے چونتیس ہزار فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کے باوجود جنگ کو حماس کے خاتمے تک جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس لیے اسرائیل جنگ بندی بھی صرف یرغمالیوں کی مکمل رہائی کے حوالے سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ عملی طور پر عارضی جنگ بندی یا جنگ میں مختصر وقفے کے ہم معنی ہے۔

حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ حماس کی تازہ ترین تجاویز پر اسرائیلی رد عمل موصول ہو گیا ہے۔ جن کا حماس قائدین جائزہ لے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی جواب کے بارے میں حماس مصر اور قطر کو اپنی رائے سے آگاہ کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں