مصرمیں ڈارک ویب کے لیے بچے کا گھناؤنا قتل ناقابل معافی گناہ ہے: جامعہ الازھر

ڈارک ویب کا استعمال حرام اور اس کے لیے کام کرنے والے گناہ گار ہیں۔ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کی نگرانی کریں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصرمیں انٹرنیٹ اورڈارک ویب کے گھناؤنے جرائم کے تازہ واقعے نے ملک میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ، عوامی حلقوں اور جامعہ الازھر کی طرف سے بھی اس واقعے پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ مصرمیں ڈارک ویب کے گھناؤنے جرائم کے لیے ایک کم عمر بچے کو آرے سے کاٹ کر دو ٹکڑے کردیا گیا جس نے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی کی لہر پیدا کی ہے۔

اس گھناؤنے جرم کا ایک پہلو انسانی اعضا کی چوری اور دوسرا قتل کےجرم کی واردات کی ویڈیو بنا کراسے ڈارک ویب پر فروخت کرتے ہوئے حرام کے پیسے کمانا ہے۔

اس حوالے سے صارفین نے ’ڈارک ویب سائٹس‘ سے متعلق دینی تعلیمات کے بارے میں بھی استفسار کیا جس پر جامعہ الازھر نے ایک تفصیلی فتویٰ صادر کیا ہے۔

جامعہ الازھر کا کہنا ہے کہ ڈارک ویب "جرائم کی بین الاقوامی اور انڈرگراؤنڈ انڈسٹری ہے جس کے ساتھ کسی بھی قسم کے کا لین دین کرنا یا ان کا وزٹ کرنا حرام ہے۔ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے وقت بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک حرکت کا نوٹس لیں تاکہ بچوں کو اس گھناؤنے جرم کی طرف جانے سے روکا جا سکے‘‘۔

تفریح کی آڑ میں جرم کا ارتکاب

جامعہ الازھر کے بین الاقوامی آن لائن فتویٰ (ڈارک ویب) جرائم کی تکلیف دہ تفصیلات اور ڈارک ویب کی مکروہ دنیا کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "بچے کا ڈارک ویب کے لیے قتل جرم کی تیاری یا اسے براؤزکرنے اور تفریح کی آڑمیں ایک ایک گناہ کا ارتکاب ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "خوفناک جرائم کے دوران گناہ میں شرکت اور اس شیطانی کام کے ذریعے فوری امیر بننے کی طمع اور لالچ کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ایسے گھٹیا اور مکروہ جرائم کے مرتکب مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے جرم کا اعادہ نہ ہو‘‘۔

جامعہ الازھرنے کہا کہ اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات واضح ہیں۔ سورہ بقرہ آیت 195 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو‘۔ اسی سورۃ کی آیت179 میں فرمایا کہ ’اے عقل والو قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنی تذلیل کرے، صحابہ کرام نے پوچھا کہ اپنے آپ کی تذلیل کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ خود کو مصیبت میں ڈالنا‘ ہے۔

اسی طرح کسی شخص کو اپنی زندگی اور صحت کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسے دوسروں کی زندگی اور صحت کی حفاظت کی بھی ہدایت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس کے ہاتھ سے دوسروں کے مال اور عزت محفوظ رہے۔

جامعہ الازھرنے کہا کہ وہ دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر سائبر جرائم اور ڈارک ویب کے جرائم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر آگاہی کی مہمات چلا رہی ہے تاکہ انٹرنیٹ کےغلط استعمال کے بارے میں لوگوں میں آگاہی مہیا کی جائے۔

الازہر نے گھروں میں والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں بالخصوص انٹرنی کے استعمال کے حوالے سے چوکنا رہیں۔

الازہر نے ملک کے عوام، اس کے مذہبی اداروں، علما ، میڈیا کے اداروں، تعلیمی اور ثقافتی اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں کے انٹرنیٹ کے استعمال کو مثبت بنانے کے لیے اپنے اپنے فورمز پر کردار ادا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں