نیتن یاھو اور دیگر رہنماؤں کےبین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کےخدشات پراسرائیل میں بے چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی کے غزہ جنگ کی وجہ سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے امکان پرگہری تشویش اور اس کےمتبادل آپشنز پرغورکا فیصلہ کیا ہے۔

براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو کے دفتر میں ان خدشات پر فوری اور سنجیدہ بحث ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اعلیٰ سطحی اسرائیلی سکیورٹی اور سیاسی رہ نماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے کے امکان پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ غزہ جنگ کی وجہ سے کئی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے خلاف تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کئی حلقے اور ممالک اسرائیل پر غزہ جنگ میں چوتھے جنیوا کونشن اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

عبرانی اخبار "ماریو" نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں اس ممکنہ پیش رفت کو روکنے کے لیے بہت کوششیں کیں اور ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے گرفتاری کے وارنٹ کے اجراء کو روکنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ وسیع رابطے کیے۔ انہوں نے امریکی صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قیادت کے وارنٹ گرفتاری روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

رپورٹ کے مطابق وارنٹ گرفتاری کا اجراء وقت کا معاملہ ہے اور اس میں نیتن یاہو کے ساتھ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور چیف آف جنرل اسٹاف ہرزی ہیلیوی بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اپنے بیانات میں نیتن یاہو نے بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کیے جانے والے کسی بھی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے غزہ کے حوالے سے اسرائیل کے اقدامات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک بیان میں گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے امکان کو بھی ایک خطرناک نظیر قرار دیا تھا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ہم ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا کہ نیتن یاہو کے دی ہیگ کے بارے میں ٹویٹ نے اسرائیل کے سینیر حکام کو ناراض کیا جنہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی بیان پہلے سے پیچیدہ صورت حال کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق یہ نیتن یاہو اور ان کی جنگی کونسل کے ارکان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بات چیت کے دوران اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا کہ سیاسی اور سکیورٹی حکام جن میں بینی گینٹز، گیلنٹ اور آئزن کوٹ شامل ہیں حماس کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ نیتن یاہو اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں