’سعودی وژن 2030 کی کامیابی ممالک میں تبدیلی کی صلاحیت کی ایک مثال ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹرکرسٹینا گورگیفا نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں "وژن 2030" کی کامیابی ممالک کی تبدیلی کی صلاحیت کی ایک واضح مثال ہے۔

گورگیفا نے عالمی اقتصادی فورم کے"عالمی ترقی کے لیے ایک نیا وژن "کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ معاشی نمو کے ثمرات کو تمام ممالک میں تقسیم کیا جانا چاہئے، کیونکہ اس میں بہت زیادہ تضاد ہے جو ممالک کے مابین معاشی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا بھرمیں 800 ملین افراد فی الحال قحط سے دوچار ہیں اور ہم دنیا کے دوسرے خطوں میں ترقی کے فوائد کو بانٹنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی معیشت نے بار بار کے بحرانوں سے نمٹنے میں اپنی صلاحیت اور یکجہتی ثابت کردی ہے۔

گورگیفا نے کہا کہ دنیا کو دو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ پہلا یہ ہے کہ گذشتہ سال معاشی نمو میں 3.2 فیصد کے باوجود یہ تاریخی اعتبار سے کمزور شرح ہے۔ دوسرا مسئلہ دنیا کے ممالک کے مابین ایک بڑا تفاوت ہے۔ کچھ ممالک اچھی ترقی کی شرح حاصل کرتے ہیں جب کہ کچھ بہت پیچھے ہیں۔ اگر ہم ان دو مسائل کو حل نہیں کرتے ہیں تو ہمیں مستقبل میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے عوامی مالیات اور مالیاتی پالیسیوں کی طرف معیشت کی طاقت اور ذمہ داری کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں کے تسلسل کا کوئی متبادل نہیں۔

کرسٹینا گورگیفا نے وضاحت کی کہ ٹیکنالوجی کی گنجائش اور اسے انسانی سرمائے سے جوڑنا ضروری ہے، جو مواقع اور مختلف ملازمتوں کے مابین زیادہ لچک کے ساتھ منتقل ہوسکتا ہے۔

عالمی معاشی فورم کی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون ، نمو اور توانائی سے متعلق نجی اجلاس کی سرگرمیاں ریاض شروع ہوئیں جن میں دنیا بھر سے ایک ہزار سے زیادہ شخصیات نے شرکت کی۔

کانفرنس کا موضوع جدید اور ابھرتی مارکیٹوں کے مابین بڑھتے فرق کو ختم کرنے میں ترقی اور مدد کے گرد گھومتا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں