بلنکن کی سعودی عرب آمد، غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کریں گے

بلنکن کی سینئر سعودی رہنماؤں اور پانچ عرب ریاستوں کے ہم منصبوں سے وسیع تر ملاقات متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن پیر کو سعودی عرب پہنچے جو ان کے شرقِ اوسط کے وسیع دورے کا پہلا قیام ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم ہو جانے کے بعد غزہ کی حکمرانی سمیت دیگر مسائل پر بات چیت ہو گی۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار اس ہفتے کے آخر میں اسرائیل کا رخ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیں گے کہ وہ غزہ کی سنگین انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور حقیقی اقدامات کریں جن کا امریکی صدر جو بائیڈن نے اس ماہ مطالبہ کیا تھا۔

محکمۂ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق توقع ہے کہ ریاض میں بلنکن سینیئر سعودی رہنماؤں سے ملیں گے اور ان کی پانچ عرب ریاستوں - قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے ہم منصبوں کے ساتھ ایک وسیع تر ملاقات ہو گی تاکہ اس بات پر مزید تبادلۂ خیال کیا جا سکے کہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی حکومت کیسی ہو گی۔

بلنکن سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ عرب ممالک کو یورپی ریاستوں کے ساتھ یکجا کر کے اس موضوع پر بات کریں گے کہ یورپ کس طرح چھوٹے سے فلسطینی انکلیو کی تعمیرِ نو کی کوششوں میں مدد کر سکتا ہے جسے چھ ماہ کی طویل اسرائیلی بمباری نے بنجر کر کے رکھ دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر خارجہ امور، ان کی شاہی عظمت شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان، امریکہ میں سعودی سفیر، ڈاکٹر منال رڈوان، وزارت خارجہ کے مشیر، اور مسٹر محمد ال سے ملاقات کی۔ یحییٰ، مشیر خارجہ امور۔ (SPA)
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر خارجہ امور، ان کی شاہی عظمت شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان، امریکہ میں سعودی سفیر، ڈاکٹر منال رڈوان، وزارت خارجہ کے مشیر، اور مسٹر محمد ال سے ملاقات کی۔ یحییٰ، مشیر خارجہ امور۔ (SPA)

ناروے سمیت یورپی ممالک کا ایک گروپ ارادہ رکھتا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں عرب ریاستوں کا حمایت یافتہ امن منصوبہ پیش کرنے کے ہمراہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا جائے۔

ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے ریاض میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر رائٹرز کو بتایا، "ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مشترکہ کوششوں سے ہم اسے مزید بامعنی بنا سکتے ہیں۔ ہم واقعی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا آپ ایک ہی بار کرتے ہیں۔"

بلنکن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصر سے توقع تھی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے امکانات پر بات کرنے کے لیے حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں