رفح پر امکانی اسرائیلی حملہ ، پہلے اسرائیل امریکہ کو اعتماد میں لے گا : جان کربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اطلاع دی ہے اسرائیل نے غزہ کے سرحدی شہر رفح پر حملہ کرنے سے پہلے امریکی خدشات اور خیالات کو سننے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جان کربی نے امریکہ کو اسرائیل کی طرف سے مکمل مشاورتی کردار ملنے کو اتوار کے روز ظاہر کیا ہے۔

خیال رہے امریکہ کی شروع سے کوشش رہی ہے کہ اسرائیل جنگی محاذ پر تنہا نہ رہے اور تنہائی میں فیصلے نہ کرے۔ رفح پر جس حملے کی اسرائیل نے کئی ماہ سے تیاری کر رہا ہے۔ اس کی امریکہ کے ساتھ مشاورت کے مواقع پیدا ہوتے رہے ہیں تاہم اب حتمی مشاورت کے امکان کی بھی جان کربی نے تصدیق کر دی ہے۔ گویا اسرائیل رفح میں جو جنگ کرے گا امریکہ کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کر سکے گا۔

واضح رہے اسرائیل کی فوج رفح سے فلسطینی شہریوں کو نکالنے اور وہاں حماس کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، اس بارے میں ایک سینئر اسرائیلی جنگی ذمہ دار نے بدھ کے روز کہا تھا ' انسانی تباہی کے بین الاقوامی انتباہات کے باوجود ہم تیار ہیں اور رفح پر حملہ کریں گے۔'

واشنگٹن نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ مناسب اور قابل اعتبار منصوبہ کے بغیر رفح آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتا۔ جان کربی نے 'اے بی سی ' کو بتایا کہ "انہوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ رفح میں اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ ہمیں اپنے نکتہ نظر اور خدشات اسرائیل کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔'

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اگلے ہفتے اسرائیل سمیت پورے مشرق وسطی کا دورہ کرنے والے ہیں اور کربی نے کہا ' امریکہ وہ عارضی جنگ بندی کے لیے دباؤ جاری رکھے گا ' ان کے مطابق واشنگٹن اس عادضی جنگ بندی کو کم از کم چھ ہفتوں تک جاری رکھنا چاہتا ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں