سات افرادکی ہلاکت: ایک ماہ بعد امریکی ادارے کا فلسطینیوں کے لیے خوراک بحالی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں بحری راستے سے امدادی سامان اور خوراک بھجوانے والے ملکوں کے لئے رابطہ کاری کا کام کرنے والے امریکی ادارے ' ورلڈ سینٹرل کچن ' ایک ماہ کی غیر حاضری کے بعد پھر سے رابطہ کاری کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس امریکی ادارے نے 34000 جاں بحق فلسطینیوں اور لگ بھگ 23 لاکھ بے گھر اور بھوکے پیاسے فلسطینیوں کے علاقے غزہ میں اپنی ٹیم کے سات ارکان کی ہلاکت کے بعد کام چھوڑ دیا تھا۔

واضح رہے یہ سات رکنی ٹیم بھی آب تک جاں بحق ہو چکے لگ بھگ ساڑھے چونتیس ہزار فلسطینیوں کی طرح اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم امریکی ادارے کے ان سات ملازمین کو ہلاک کرنے والی اسرائیلی فوج کو امریکہ نے اس واقعے کے بعد 13 ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کی منظوری دی ہے۔

اس ادارے کے تعاون سے غزہ میں کھانے پینے کی اشیا سے محروم فلسطینیوں کو متحدہ امارات کی طرف سے بھیجی گئی 43 ملین کھانوں سے زائد امداد پہنچ چکی ہے۔ تاہم بعد ازاں کام رک گیا تھا۔ اہل غزہ کو ملنے والی خوراک دیگر تمام این جی اوز کے مجموعی امدادی سامان کا باسٹھ فیصد بتائی جاتی ہے۔

'ورلڈ سینٹرل کچن, کا کہنا ہے کہ اس پاس 276 ٹرکوں پر لدی آٹھ ملین کھانوں پر مشتمل خوراک کے پیکٹ رفح کے راستے جانے کے لیے تیار کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح کچھ ٹرک اردن کے راستے بھی غزہ منتقل کیے جائیں گے۔

امریکی ادارے کے سربراہ ایرن گور کا کہنا ہے کہ غزہ میں ابھی صورت حال بڑی تباہ کن ہے۔ اس لیے ہم پہلے والے انداز اور توانائی کے ساتھ دوبارہ کام شروع کر رہے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوگا لوگوں تک خوراک پہنچائی جائے گی۔

جس اسرائیلی بمباری کے واقعے کو بنیاد بنا کر امریکی ادارے نے غزہ کے فلسطینی کو خوراک فراہم کرنا بند کی تھی اس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس میں اس کی فوج کی طرف سے پروسیجر کی کافی خلاف ورزی پائی گئی ہے۔ اس لیے سس نے دو فوجی افسروں کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی ادارے نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اہم بات ہے کہ امدادی ترسیل روکنے سے اسرائیلی فوج کے جرم کی سزا فلسطینیوں کو قریب قریب ایک ماہ تک دی گئی جبکہ اسرائیلی فوج کو اسی عرصے میں امریکہ نے ایک غیر معمولی طور پر بڑا اور غیر مشروط امدادی پیکج دینے کی منظوری دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں