عالمی اکنامک فورم کانفرنس,غزہ جنگ کی تباہی اوررفح پرامکانی اسرائیلی حملےکاذکرغالب رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی اقتصادی فورم کی ریاض میں منعقدہ کانفرنس کے دوران غزہ میں اسرائیلی جنگ کا موضوع اہم ترین موضوعات میں نمایاں ہو کر سامنے رہا۔ سات اکتوبر سے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے فلسطینی عوام، فلسطینی کاز ، عرب دنیا ، مشرق وسطی اور عالمی معیشت و امن پر اثرات کا جائزہ رہنماؤں کی تقریروں میں نمایاں رہا۔

اکثر سینئیر عرب رہنماؤں نے غزہ سے جڑے حالات و واقعات اور موضوعات کے ساتھ ساتھ اثرات و مضمرات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس کے اثرات علاقے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی موجود ہیں اور رہیں گے۔

عالمی رہنماؤں نے بھی اس بارے میں اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے صورت حال کا جائزہ پیش کیا۔ نیز مشکلات اور چیلنجوں پر بھی بات کی۔ کہ کس وجہ سے غزہ می اسرائیلی جنگ اس بد ترین تباہی کا ہدف پورا کر لینے کے باوجود رکنے کو نہیں آرہی ہے۔

یہاں تک کہ سات اکتوبر سے جنگ شروع ہو جر ساتویں ماہ کو مکمل کرتی نظر آرہی یے۔

مصر کے وزیر اعظم مصطفی مدبولی نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے بارے میں اپنے خطاب میں کہا ' اسرایجل کا جنگی عمل تمام تر فلسطینیوں کے لیے ایک اجتماعی سزا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب غزہ کی پٹی کو حماس کے خلاف کارروائی کے لیے نشانے پر نہیں رکھا گیا یے۔'

مدبولی نے ریاض میں ہونےوالی اس کانفرنس سے خطاب میں مزید کہا ' ہمیں غزہ جنگ کے بہترین نتائج اور انجام۔کے لیے اپنی بھر پور کوشش کرنا ہو گی،نیز رفح پر حملہ رکوانے کے لیے بھی۔ '

ان کا کہنا تھا' اگر غزہ جنگ کے فریق جنگ روک بھی دیتے ہیں تب بھی غزہ کی بحالی کے لیے کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔' انہوں کا مزید کہنا تھا اس جنگ نے مصری معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں۔کیونکہ افریقہ سمیت تما علاقوں سے ہمیں پناہ گزینوں کے دباو کا سامنا ہے۔'

اردنی وزیر اعظم بزر خاصوانی نے خبر دار کیا ' رفح میں کوئی بھی حملہ ایک بڑی تباہی کے بعد ایک اور تباہی کی صورت سامنے آئے گا۔'

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی جنگ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کا نتیجہ نہیں ۔ اس تباہی کی جڑیں اسراییل کے 1948 سے چلے آنے والے قبضے سے جڑی ہیں۔ یہ تباہی اسرائیل کی 70 سال سے فلسطینی عوام کے خلاف جاری جارحیت کے سبب ہے۔ یہ اسلیے ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس لئے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ ہوا۔ وہ حملہ بے سبب نہیں تھا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں