غزہ سے متصل زیر تعمیر امریکی بندرگاہ دو سے تین ہفتے میں کام شروع کر دے گی: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے متصل زیر تعمیر بندر گاہ کے راستے غزہ میں خوراک و امدادی سامان کی ترسیل کا سلسلہ اگلے چند ہفتوں شروع ہو جائے گا۔ تاہم یہ زمینی راستوں کا متبادل ہر گز ثابت نہیں ہو سکے گا۔ یہ بات وائٹ ہاوس نے اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں کہی ہے۔

خیال رہے اقوام متحدہ نے اسرائیل کی غزہ میں قریب قریب سات ماہ سے جاری جنگ کے باعث خبردار کر رکھا ہے کہ غزہ میں جنگ کے ساتھ ساتھ مسلسل اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب قحط کا خطرہ ہے۔ کیونکہ اسرائیل کی طرف سے امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹوں کی وجہ خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

ایک ہفتہ قبل پینٹا گون نے اعلان کیا تھا کہ غزہ سے متصل قائم کی جانے والی امریکی بندرگاہ پر تیزی سے کام جاری ہے اور امکانی طور پر دو یا تین ہفتوں تک خوراک کی ترسیل اس نئی بندر گاہ سے ممکن ہو جائے گی۔

تاہم وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے لیے ترجمان جان کربی نے اتوار کے روز 'اے بی سی نیوز ' کو بتایا ہے کہ اگلے دو تین ہفتوں کے دوران اس 'فلوٹنگ بندرگاہ ' سے امداد شروع کی جا سکے گی۔

جان کربی نے کہا بلا شبہ یہ 'فلوٹنگ بندر گاہ ' غزہ کے لوگوں کے لیے بحری راستے سے امداد کی ترسیل کا ذریعہ بنے گی ۔مگر یہ کبھی بھی زمینی روستوں اور ٹرکوں کے ذریعے پہنچائی جانےوالی امداد کے متبادل نہیں ہو سکتی ۔ یہ زمینی ذرائع کے مقابلے میں بہت کم مقدار میں ہو سکتی ہے۔

امریکی ادارے ' ورلڈ سینٹرل کچن ' نے یکم اپریل سے غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کا آپریشن ملتوی کر دیا تھا۔جسے اب دوبارہ کھولنے کا امریکی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن جنہوں نے اسرائیلی کی فوجی اسلحے کی صورت کے ایک بڑے امدادی پیکج پر اسی مہینے میں دستخط کیے ہیں ۔ انہوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ جنگ کے سلسلے میں اپنا طریقہ تبدیل کرے۔

جان کربی نے کہا ' اسرائیلیوں نے صدر جوبائیڈن کے ساتھ کیے گئے وعدے پورا کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اب اس نے غزہ میں امدادی ٹرکوں کی تعداد بھی بڑھا دی یے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں