غزہ میں جنگ، مشرق وسطی کو 1948 کے بعد بڑے اور بد ترین بحران کا سامنا ہے:انٹونی بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کی غزہ میں پچھلے تقریبا سات ماہ سے جاری جنگ میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی ہر طرح کی مدد کیے جانے کے باوجود کہا ہے 1948 کے بعد یہ ایک بد ترین بحران ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بتایا ہے کہ امریکہ غزہ میں جاری اس جنگی بحران کو غزہ سے باہر پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا 'حماس اسرائیل کی طرف سے غیر معمولی طور پر فراخدلانہ تجویز رکھتا ہے تاکہ خطے میں جنگ بندی ہو سکے۔ امید ہے کہ وہ درست فیصلہ کریں گے۔ اس تناظر میں مصری میزبانی میں مذاکرات سے بڑی توقعات ہیں۔ ان مذاکرات میں عسکریت پسند گروپ جنگ بندی کے معاہدے کے لیے غور کریں گے۔'

بلنکن عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس سے ریاض میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا 'امریکہ اسرائیل کی پوری حمایت کرتا ہے تاکہ جو کچھ سات اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو سکے۔'

امریکی وزیر خارجہ نے حماس کے لیے شرائط پیش کرنے کے انداز میں کہا ' اگر حماس شہریوں کے پیچھے نہ چھپے، اپنے ہتھیار پھینک دے، یرغمالی واپس کر دے اور شکست مان لے تو کسی کے لیے کوئی مصیبت نہ ہوگی جو ہم سب دیکھ رہے ہیں۔'

بلنکن نے مزید کہا 'غزہ میں خوفناک انسانی بحران پر ہماری توجہ ہے۔ امریکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔'

امریکہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'ہم نے ابھی تک اسرائیل کے پاس کوئی ایسا منصوبہ نہیں دیکھا ہے جس سے ہمیں یہ یقین ہو کہ شہریوں کو مؤثر طریقے سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔'

بلنکن نے اس موقع پر مزید کہا 'خطے کے ملکوں کے پاس صرف دو راستے ہیں کہ یا تو باہم ایک ہو جائیں یا عدم استحکام کا سامنا کریں ، جس کا چکر کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔'

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ' باہم مل کر رہنے اور نارمل ہو کر رہنے کا راستہ آگے بڑھنے کا راستہ ہے جس پر چل کر یہ خطہ حقیقی طور پر مربوط ہو سکتا ہے۔ اس ارتباط کے نتیجے میں اسرائیل کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ معمول کے تعلقات ہوں گے ۔'

انہوں نے مزید کہا 'پھر فلسطینیوں کی بھی اپنی ریاست کے لیے ان کی جائز خواہشات پوری ہو سکیں گی اور تشدد کا یہ چکر ختم ہو جائے گا، تشدد کا وہ چکر جس کا حاصل تباہی اور گہرا عدم تحفظ ہے۔'

امریکہ کے اعلی سفارتکار نے خطے کے تقریباً ہر ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران کو قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ڈانٹ یہ ہو گی کہ ایک فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو جائے۔'

اس کے برعکس ہوا تو بلنکن نے کہا 'پھر عدم تحفظ، تشدد، تباہی کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر نظر آئے گا۔ جس نے پہلے ہی بہت زیادہ تکلیف اور تباہی دی ہے۔ '

وہ کہہ رہے تھے جب تک کہ 'مستقبل کے بارے میں مشکل فیصلے نہ کیے جائیں حالات کی بہتری ممکن نہ ہو گی۔'

بلنکن نے چین میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے کہا ' ہم نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تنازعات سے بچنے میں مدد کرے۔ میں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ جو مطالبہ کیا وہ ان کے نفوذ کو استعمال کرنے پر زور دینے سے متعلق تھا کہ ایسا کرنا چین کے مفاد میں ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں