فلسطین اسرائیل تنازع

قاہرہ مذاکرات سے پہلے : شمالی غزہ اور رفح میں اسرائیلی بمباری سے 15 فلسطینی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح کے مکانات پر بمباری کر کے 13 فلسطینیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔ یہ بات رفح میں موجود طبی عملے نے پیر کے روز بتائی ہے۔ دوسری جانب حماس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بمباری سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 15 ہے۔

علاوہ ازیں غزہ کے شمالی حصے میں بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے بمباری کر کے دو مکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔بمباری کے اس دوسرے واقعے میں بھی متعدد فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی وزارت صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے تاہم فوری طور پر تعداد کنفرم نہیں کی ہے۔

رفح جو کہ مصری سرحد سے جڑا ہوا شہر ہے اور اپنی راہداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ ان دنوں غزہ کی پٹی سے بےگھر ہو کر آنے والے لگ بھگ پندرہ لاکھ فلسطینی شہری اس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

پیر کے روز ہونے والی یہ اسرائیلی بمباری مصری دارالحکومت قاہرہ میں ایک بار پھر شروع ہونےوالے مذاکرات سے محض چند گھنٹے پہلے کی گئی ہے۔

ان مذاکرات کا انعقاد پچھلے کئی ماہ کے دوران جنگ بندی کے لیے جاری رہنے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعدنئی امید کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ لیکن ان کے انعقاد سے پہلے ہی صورت حال بگاڑنے کی صورت اسرائیلی بمباری نے پیدا کر دی ہے۔

قاہرہ میں آج پیر کے روز شروع ہونے والے مذاکرات میں مصر اور قطر کی معاونت حاصل رہے گی۔ حماس کے حکام نے اتوار کے روز ہی تصدیق کر دی تھی کہ اس کا وفد مذاکرات میں شرکت کے لیے پہنچ رہا ہے۔ ان مذاکرات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی گئی ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ہو جائے گی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی کوئی صورت بن جائے گی۔

یاد رہے سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک ساڑھے چونتیس ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔

حماس کے حکام نے اتوار کو بتایا تھا کہ قاہرہ میں مذاکراتی عمل میں حماس کے وفد کی قیادت غزہ میں ڈپٹی چیف حماس خلیل الحیہ کریں گے۔

مذاکرات کے میزبان اور ثالثی کرنے والے ملکوں کی کوشش ہے کہ مذاکراتی عمل کامیاب ہو اور اسرائیل رفح پر کے بڑے زمینی حملے سے باز رہے۔تاہم ابھی مستقبل کے نقشے کے بارے میں کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا ہے۔

مذاکرات سے ایک روز پہلے تک حماس کے حکام نے اب سامنے آنے والی ان تجاویز کا ذکر نہیں کیا جو اسرائیل کے غور کے بعد سآمنے آئی هیں۔ اتوار کے روز تک حماس ان تجاویز کا جائزہ لے رہا تھا جو اسرائیلی جواب کی صورت موصول ہوئی ہیں۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے چالیس کے قریب یرغمالیوں کی رہائی کا ان مذاکرات کے تحت معاہدے میں امکان موجود ہے۔ ان چالیس سے کم یرغمالیوں کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی بھی کی جا سکے گی۔

جنگ بندی کے اس دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کی طرف پیش رفت کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ جس کی شروعات جنوبی اور شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی محفوظ آمدورفت سے تجویز کیا گیا ہے۔جبکہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا بھی اسی طرح ممکن بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں