مصری تجویز ذلت آمیز، ہتھیار ڈالنے کے مترادف اور اسرائیل کے لیے خطرناک ہے: سموٹریچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے حماس کے سامنے پیش کی گئی یرغمالیوں کے معاہدے کے حوالے سے مصر کی تجویز کو ذلت آمیز ہتھیار ڈالنے کے مترادف اور اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے سموٹریچ نے کہا کہ اگر آپ سفید جھنڈا اٹھانے اور رفح پر قبضے کے حکم کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کی حکومت کو برقرار رہنے کا حق نہیں ہوگا۔

ویب سائٹ "اسرائیل 24" نے سموٹریچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب نئے یرغمالیوں کے معاہدے کی منظوری ایک ذلت آمیز ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ریاست کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔

ذرائع نے قبل ازیں اشارہ کیا تھا کہ حماس مصری تجویز میں شامل تبدیلیوں سے مطمئن ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کو قاہرہ آنے کے لیے کہا جائے گا۔ یہ معاملات ان خبروں کے شائع ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں کہ حماس کا ایک وفد "جنگ بندی کی نئی تجویز" پر بات چیت کے لیے قاہرہ جانے والا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے وزیر سموٹریچ کی جانب سے مصر کے طے کردہ خطوط کے مطابق حماس کے ساتھ معاہدے کو قبول کرنے کے بارے میں انتباہ کا جواب دیا اور کہا کہ حکومت کے پاس یرغمالیوں کے معاہدے کو انجام دینے کے لیے عوام میں اکثریت ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو انجام دینے کے لیے کنیسٹ میں اکثریت ہے۔ جہاں تک سموٹریچ نے نازیوں کا ذکر کیا تو یہ یہ وہ چیز ہے جو یہودیوں کے پاس ہولوکاسٹ کے دوران نہیں تھی۔ اب انہیں بچانے کے لیے ایک یہودی حکومت موجود ہے۔

اسرائیل کی ویب سائٹ ’’والا‘‘ کے مطابق نئی تجویز میں تل ابیب کی جانب سے بڑی رعایتیں شامل کی گئی ہیں جن میں جنگ کے خاتمے کے طریقوں پر بات کرنے کی واضح رضامندی بھی شامل ہے۔ مصر کی طرف سے تیار کردہ اور اسرائیل کی طرف سے منظور شدہ تجویز کی سب سے نمایاں چیزوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مکمل طور پر اپنے گھروں میں واپسی کی تیاری، اسرائیلی فوج کا غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے والی راہداری سے پیچھے ہٹنا شامل ہے۔ اسی طرح دوسرےمرحلے میں مستقبل میں مستقل جنگ بندی کی تیاری کرنا بھی شامل کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں