ابو مرزوق کے حماس کے اردن منتقلی کے بیان پر نیا تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق کی جانب سے تحریک کے رہ نماؤں کے اردن منتقل ہونے کے امکان کے بارے میں بیانات نے ایک نیا پنڈورہ بکس کھول دیا ہے۔ ان کے بیان پر نہ صرف اردنی میڈیا بلکہ حماس کے اندر سے بھی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

ابو مرزوق کی جانب سے ایرانی میڈیا کے سامنے دیے گئے بیانات پر اردنی میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

ابو مرزوق کے بیان پر حماس کے اندر بھی ایک تنازعہ پیدا کردیا۔ حماس رہ نما غازی حمد نے ابو مرزوق کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا۔

ایسی کوئی تجویز زیرغور نہیں

غازی حمد نے العربیہ/الحدث کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اس مسئلے کو کبھی بھی بحث کی میز پر نہیں رکھا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ابو مرزوق کا احترام کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں لیکن واضح کرتے ہیں کہ حماس کے رہ نماؤں کے اردن منتقل ہونے کا معاملہ بالکل نہیں اٹھایا گیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قطر کا موقف حماس کی حمایت کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تعلقات بہت نارمل ہیں اور یہ مسئلہ نہ میز پر ہے، نہ ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ جماعتیں یا تو کچھ ممالک پر دباؤ ڈال کر یا افواہیں پھیلا کر حماس کی قیادت میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔

غازی حمد نے مزید کہا کہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ تل ابیب کچھ ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ حماس کے رہ نماؤں س نہ ملیں، لیکن قطر کا موقف واضح اور دوٹوک ہے اور ہمارے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے"۔

"ہم ہوٹل نہیں ہیں"

درایں اثناء اردن کے سابق وزیر اطلاعات سمیح المعایطہ نے کہا کہ عمان کسی بھی غیر اردنی تنظیم کو اپنی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اردن ایک ملک ہے، ہوٹل نہیں"۔

اردنی ذرائع نے ابو مرزوق کے اشارے کو اس خاص وقت میں اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس 1999ء میں وزیراعظم عبدالروؤف روابدہ کے دور میں اردن سے نکل گئی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حماس اور اردن کے درمیان تعلقات میں حال ہی میں کچھ تناؤ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر اس تحریک کے رہ نماؤں کی جانب سے اردن میں مظاہروں کو ہوا دینے کی اپیلوں کے بعد اردنی حکومت اور عوامی حلقوں کی طرف سے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں