العاروری کی تشکیل کردہ الفجر فورس کی لبنان میں پریڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنوبی لبنان میں دو سو دنوں سے زیادہ عرصے سے جاری تصادم نے لبنانی جماعتوں کے مسلح ونگز کو فوجی کردار ادا کرنے اور حزب اللہ کی طرف سے "یونٹی آف فیلڈز" کے نعرے کے تحت شروع کی گئی کشیدگی کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے انہیں متحد کیا ہے۔

شاید ان میں سے سب سے نمایاں ونگ "جماعت اسلامی" سے وابستہ "فجر فورس" ہے جو حماس سے وابستہ "القسام بریگیڈز" کی قیادت میں فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مل کر جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیتی ہے۔

مسلح شخص کےنمودار ہونے پر لوگوں میں خوف

الفجر فورسزنے دو روز قبل لبنان کے منظر نامے میں اس وقت پیش قدمی کی جب ان کے ارکان نے ملک کے شمال میں واقع شہر بنین میں ایک فوجی پریڈ کا انعقاد کیا۔ یہ پریڈ دو روز قبل شمالی بقاع میں اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے دو جنگجوؤں کی لاشیں پہنچنے کے بعد منعقد کی گئی۔ اس پریڈ پر لبنان کے عوامی حلقوں کی طرف سے سخت ناراضی کا اظہار کیا جا گیا اورتنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس تناظرمیں ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی طرف سے رابطہ کیے جانے پر بنین کے متعدد رہائشیوں نے تصدیق کی کہ "زیادہ تر "نقاب پوش" بندوق بردار جو جنازے کے دوران نشر ہونے والی ویڈیوز میں دکھائی دیے ان کا تعلق قصبے سے نہیں ہے۔

لیکن انہوں نے وضاحت کی "سیاسی گروپ بنین میں سماجی اور صحت کےشعبے میں سرگرم ہے۔اس کے کلینک ہیں اور عسکریت پسند نہیں اور بنین سے اس کے حامی اکثریت میں نہیں ہیں"۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ جنوب کی طرف جاری جنگ کے ایک حصے کے طور پر اسرائیلی ڈرون کے ذریعے قصبے سے دو افراد کی ہلاکت پر حیران ہیں۔

"ہم ایران کے لیے قیمت چکا رہے ہیں"

ان کا خیال تھا کہ لبنانی "ایران کے لیے قیمت چکا رہے ہیں جو لبنانی سرزمین پر اپنےمقاصد کے حصول کے لیے سرگرم ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ "حزب اللہ نے ہمارے لوگوں کا استحصال کرنے کے لیے سنی میدان میں سیاسی خلا کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے ایران کی خدمت میں ہمارے علاقوں کو بےتوقیری کا نشانہ بنایا"۔

لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ریاست جس کی نمائندگی فوج اور سکورٹی فورسز کرتی ہے صرف قصبے کے لوگوں کا اختیار ہے۔ ہم ریاست اور قانون کے دائرہ اختیار سے باہر ہر طرح کی مسلح تنظیموں کو مسترد کرتے ہیں"۔

شمالی لبنان میں فجر فورسز کی پریڈ سے
شمالی لبنان میں فجر فورسز کی پریڈ سے

حماس کے داخلی انتخابات

سیاسی اسلام کے تجزیہ نگار مصنف، سمر زیریک نے وضاحت کی جنوبی منظر نامے میں فجر فورسز کا داخلہ حماس سے منسلک ہے۔"

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ 2017ء میں کے اندرونی انتخابات کے بعد ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی جس سے یحییٰ السنوار اور صالح العاروری (جن کو اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں بیروت میں قتل کر دیا تھا) نے تحریک کو مزاحمت کے نام نہاد محور کے اندر رکھا اور "جنگی محاذوں کی وحدت" کا نعرہ لگایا۔، جن مقاصد سنی تنظیموں کو اس محاذ میں شامل کرنا تھا۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ
حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ

العاروری کا کردار

انہوں نے وضاحت کی کہ "العاروری نے الفجر فورسز کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں بہت زیادہ تعاون کیا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں سرگرم گروپ جس نے کارروائیاں کیں وہ براہ راست اس سے منسلک تھا۔

زیوریق نے نشاندہی کی کہ "اسلامک گروپ کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد حماس یا تحریک کے نام نہاد خیراتی ہتھیاروں کے ارکان ہیں اور انہیں ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔"

انہوں نے جنوبی لبنان سے الفجر فورسز کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن حماس سے وابستہ فلسطینی عناصر نے کیے تھے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں