فلسطینیوں کا اپنی آزاد ریاست کے قیام کا حق ’ناقابل تصرف‘ ہے:شہزادہ فیصل بن فرحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں مذاکراتی سیشن کے دوران فلسطین کی صورت حال کے جامع حل کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا: "ہمیں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابل اعتبار اور ناقابل واپسی راستے کی ضرورت ہے"۔

ایک اور سیاق و سباق میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ توقع ہے کہ "مستقبل قریب میں" مملکت اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ معاہدوں کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔ انہوں نے یہ بات دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے بات چیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "زیادہ تر کام پہلے ہی ہو چکا ہے۔ ہمارے پاس اس بات کا وسیع خاکہ موجود ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطینی محاذ پر کیا ہونا چاہیے"۔

عرب- یورپی اجلاس کے دوران بن فرحان نے خبردار کیا کہ قحط غزہ میں فلسطینیوں کے لیے ایک "حقیقت" بن چکا ہے اور رفح پر کسی بھی ممکنہ اسرائیلی حملے سے انسانی تباہی ہو گی۔

شہزادہ فیصل نے ریاض میں منعقدہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت میں کانفرنس میں کہا کہ غزہ کی پٹی کے ناصر میڈیکل کمپلیکس میں اجتماعی قبروں کی دریافت جہاں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا۔ سب سے بنیادی انسانی معیارات کو نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتا ہے"۔

سعودی وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کے اپنی ریاست کے قیام کے حق پر زور دیتے ہوئے اسے ایک "ناقابل تصرف حق" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیاں صرف انتہاپسندوں کو فائدہ پہنچائیں گی اور یہ خطے کی سلامتی کو لامحالہ طور پرغیر مستحکم کرے گا۔

شہزادہ فیصل نے فلسطینی رفح میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے کی تصدیق کی اور زور دیا کہ اسرائیل "واحد ملک ہے جو غزہ میں جنگ روکنے کی ضرورت پر بین الاقوامی اتفاق رائے سے باہر ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں