کولمبیا یونیورسٹی: مذاکرات روک کر تادیبی کارروائی کرنے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں عورتوں ، بچوں اور فلسطینی شہریوں کی اندھا دھند ہلاکتوں کے خلاف کولمبیا یونیورسٹی سٹوڈنٹس کے جاری احتجاجی مظاہروں پر غزہ جنگ کے حامیوں کی برداشت جواب دینے لگی ہے۔ اکیس ڈیموکریٹ ارکان کانگریس کے خط میں ' مذاکرات کا وقت ختم کارروائی کا وقت آگیا ' کے پیغام کے بعد کولمبیا یونیورسٹی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مذاکراتی عمل ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے غزہ کی جنگ کے خلاف یونیورسٹی کے لان میں کیمپ لگا کے احتجاجاً بیٹھے طلبہ کو گراؤنڈ خالی کرنے کا کہہ دیا ہے۔ بصورت دیگر کارروائی کے لیے خبردار کیا ہے۔

اس سے قبل طلبہ کے ساتھ جنگ مخالف احتجاج ختم کرنے اور کیمپ اکھاڑنے کے لیے مذاکرات کیے جارہے تھے ۔ تاہم اس دورانیے میں مجموعی طور پر امریکہ میں 275 جنگ مخالف طلبہ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

واضح رہے اب تک کے اس طلبہ احتجاج میں کسی ایک شخص کی نکسیر تک نہیں پھوٹی ہے اور سب احتجاجی سرگرمیاں تقریروں، نعروں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی مدد سے جاری ہے۔ البتہ وائٹ ہاوس نے طلبہ احتجاج کو پر امن رہنے کا کہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹیوں میں جاری جنگ مخالف مہم کے دنوں میں ہی اسرائیلی جنگ میں مدد دینے لیے 13 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا پیکج اسرائیل کو دیا گیا ہے۔ اس پر جنگ مخالف طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی میں غم و غصہ مزید بڑھا ہے۔

امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کے حامی 21 ارکان کانگریس نے اس طلبہ احتجاج کو یہود مخالف احتجاج کا ٹائٹل دیا ہے۔ ان ڈیموکریٹس ارکان کے موقف کے حامی کئی یہودی طلبہ یونیورسٹی میں کلاسز ڈسٹرب ہونے کے باعث یونیورسٹی نہیں آرہے ہیں۔ کہ 35 ہزار کے قریب فلسطینیوں بشمول عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں پر احتجاج کرنے والوں نے انہیں ناراض کر دیا ہے اور ان کے بقول وہ احتجاج سے ہراساں ہوتے ہیں۔

پیر کے روز یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے گراؤنڈ میں لگایا گیا کیمپ اکھاڑنے کا کہا ۔ یونیورسٹی نے اس دوران یہ بھی دو ٹوک کہا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے ساتھ یونیورسٹی کے مالیاتی معاہدوں کو ختم نہیں کریں گے۔

ادھر طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیوں کے باوجود اپنا جنگ مخالف احتجاج اور احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

صدر کولمیبیا یونیورسٹی منوشے شفیک کا بھی کہنا ہے کہ 'یہود مخالف اقدمات ناقابل قبول ہیں۔ نیز پرتششد واقعات کی کالز نفرت انگیز ہیں۔'

مظاہروں کے منتظمین یہود مخالف اقدامات و الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مظاہروں کا واحد مقصد غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں