حماس کی طرف سے جنگ بندی کی مصری تجویز کے بارے میں منفی رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تحریک حماس کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ غزہ میں امن کے لیے مصری تجویز پر تحریک کا ردعمل اور اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں ہو جائے گا۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس تجویز میں منفی پہلو ہیں۔

جنگ بندی کی ضمانتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کی تجویز کے حوالے سے حماس کی طرف سے منفی اشارہ ہے۔

انہوں نے منگل کو مزید کہا کہ "حماس کی طرف سے منفی اشارے کا مطلب ہے کہ کسی معاہدے کی امید نہ رکھی جائے‘‘۔

اسرائیلی ردعمل

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب حماس کے ایک ذریعے نے منگل کو انکشاف کیا تھا کہ "مذاکرات کی فائل کے حوالے سے ماضی کے برعکس اسرائیلی سوچ میں تبدیلی آئی ہے"۔

انہوں نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ "جنگ بندی، نیٹزاریم کے محور سے انخلاء اور شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی کے حوالے سے ہماری شرائط کے بارے میں کسی حد تک اسرائیلی ردعمل سامنے آیا ہے"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "ان تینوں چیزوں کو لاگو کرنا قیدیوں کی فائل اور تبادلے کے عمل پر گفت وشنید کے لیے ایک انٹری پوائنٹ ہو گا، جس میں تفصیلات پر اگلے جواب میں تبادلہ خیال کیا جائے گا"۔

بدھ کی شام تک انتظار

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے منگل کے روز ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے ایک وفد قاہرہ بھیجنے سے پہلے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر حماس کے ردعمل کا "بدھ کی شام" تک انتظار کرے گی۔

اس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر مزید کہا کہ جیسے ہی حماس اپنا ردعمل پیش کرے گی اسرائیل فیصلہ دے گا۔ ہم فیصلہ کرنے سے پہلے بدھ کی شام تک انتظار کریں گے" کہ آیا وفد بھیجنا ہے یا نہیں۔

غزہ میں الشفا ہسپتال ملبے کا ڈھیر: رائیٹرز
غزہ میں الشفا ہسپتال ملبے کا ڈھیر: رائیٹرز

چھ ہفتوں کی جنگ بندی

قابل ذکر ہے کہ ایک باخبر ذریعے نے منگل کو انکشاف کیا تھا کہ مصری تجویز کے مطابق غزہ میں اس وقت جنگ بندی کی مدت چھ ہفتوں تک ہے۔

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر حماس نے 20 سے زائد اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو یہ مدت کم ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں