غزہ سے فلسطینیوں کو امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے، دستاویزات میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں جنگ کی ہولناکی سے بھاگنے والے کچھ بے گھر افراد کو مستقل محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کی کوششوں کے جلومیں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کچھ فلسطینیوں کو پناہ گزینوں کے طور پر امریکہ لانے کے امکان پر غور کرتی دکھائی دیتی ہے۔

’سی بی ایس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف حکومت کی داخلی دستاویزات میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی امریکی وفاقی ایجنسیوں کے سینیر حکام نے گذشتہ ہفتوں کے دوران غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کی آبادکاری کے لیے کچھ آپشنز کے عملی استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔

ان اختیارات میں امریکہ میں کئی دہائیوں سے جاری پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے غزہ سے فرار ہونے اور مصر میں داخل ہونے میں کامیاب ہونے والے فلسطینیوں کوامریکہ میں پناہ فراہم کرنے پر غورکیا گیا۔

رفح راہداری کا منظر
رفح راہداری کا منظر

اسی طرح دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سینیر امریکی حکام نے غزہ سے مزید فلسطینیوں کو نکالنے اور ان کے امریکی رشتہ داروں کے ساتھ انہیں بھی امریکہ منتقل کرنے پربات کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے فلسطینی جو طبی طور پرامریکہ میں رہنے کے اہل ہوں اور سکیورٹی کے حوالے سے وہ کلیئر ہوں تو انہیں امریکہ میں پناہ گزین کے طور پر رہنے کی اجاز دی جا سکتی ہے۔

اگرچہ اہل افراد کی تعداد نسبتاً کم ہونے کی توقع ہے اس طرح کے منصوبے وحشیانہ جنگ سے فرار ہونے والے کچھ فلسطینیوں کے لیے لائف لائن فراہم کر سکتے ہیں جہاں اس وقت تک اسرائیلی حملوں میں 34,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

رفح راہداری سے
رفح راہداری سے

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے محض ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن نے 1800 سے زائد امریکی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو غزہ چھوڑنے میں مدد کی اور ان میں سے بہت سے امریکہ میں پہنچ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں