غزہ کی جنگ بندی مستقل ہونی چاہیے: حماس کے عہدیدار کا اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حماس کے ایک عہدیدار نے بدھ کو کہا کہ حماس غزہ کے لیے اسرائیلی جنگ بندی کی تجویز کا جواب "بہت ہی مختصر مدت کے اندر" دے گی تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی جنگ بندی کا مستقل ہونا ضروری ہے۔

40 دن کی جنگ بندی اور بڑی تعداد میں فلسطینی قیدیوں کے عوض اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا منصوبہ حماس کے زیرِ غور ہے۔

حماس کے ایک سینیئر اہلکار سہیل الہندی نے اے ایف پی کو بتایا کہ گروپ "بہت ہی مختصر عرصے میں اپنا ردِعمل واضح طور پر پیش کر دے گا" البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کب متوقع تھا۔

ایک پوشیدہ مقام سے فون پر اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، یہ کہنا قبل از وقت تھا کہ آیا حماس کے ایلچی جو قاہرہ میں مذاکرات سے واپس قطر میں اپنے مرکز پر آئے ہیں، انہیں کوئی پیش رفت محسوس ہوئی۔

انہوں نے زور دیا کہ مقصد "اس جنگ کو ختم کرنا تھا۔"

لیکن یہ اسرائیل کے جنوبی غزہ میں وسیع زمینی حملے کو آگے بڑھانے کے عزم سے متصادم نظر آتا ہے۔

مذاکرات کے بارے میں علم رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ قطری ثالثین کو حماس کی جانب سے ایک یا دو دن میں جواب کی توقع تھی۔

ذریعے نے کہا، اسرائیل کی تجویز میں "حقیقی مراعات" تھیں جس میں لڑائی میں ابتدائی وقفے اور یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے بعد "پائیدار سکون" کی مدت شامل تھی۔

ذرائع نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا انخلاء اب بھی ایک ممکنہ وجۂ تنازعہ ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت "بدھ کی رات تک جوابات کا انتظار کرے گی" اور پھر "فیصلہ کرے گی" کہ معاہدہ طے کرنے کے لیے ایلچیوں کو قاہرہ بھیجیں یا نہیں۔

'کسی قیمت پر نہیں'

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ غزہ کے انتہائی جنوبی شہر میں پناہ گزین 15 لاکھ شہریوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی خدشات کے باوجود رفح میں فوج بھیجنے کے لیے ان کا عزم برقرار تھا۔

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن جو بدھ کو جنگ بندی کی ضرورت پر زور دینے کی غرض سے دوبارہ اسرائیل کے دورے پر تھے، نے نیتن یاہو کے ساتھ تبادلۂ خیال میں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے رفح پر حملے کی مخالفت کی تھی۔

الہندی نے بدھ کو کہا کہ "حماس اور تمام فلسطینی مزاحمتی دھڑے فلسطینی عوام کے خلاف اس دیوانہ وار جنگ کو ختم کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جس نے سب کچھ ختم کر دیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "لیکن یہ کسی قیمت پر نہیں ہوگا جب تک جنگ جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ فلسطینی مزاحمت اس مسئلے پر بات کر چکی ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "حماس ثالثین کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے لیے تیار ہے چاہے وہ مصری ہوں یا قطری اور یہ فلسطینی عوام کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے تمام اقدامات کے لیے بھی تیار ہے لیکن انتہائی واضح شرائط کے ساتھ جنہیں ترک نہیں کیا جا سکتا۔"

انہوں نے کہا کہ فلسطینی جنہوں نے "200 دنوں سے زیادہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کسی بھی صورت اور حالات میں سفید پرچم نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی اسرائیلی دشمن کی شرائط کے سامنے ہتھیار ڈال سکتے ہیں۔"

"ہماری عزت و وقار سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں