فلسطینی یونیورسٹی کے مظاہرین کی یورپی سفارتکاروں کے خلاف نعرے بازی

سفارتکار تقریب سے واپس چلے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی یونیورسٹی میں موجود مظاہرین نے اسرائیل کے اتحادی یورپی ملکوں کے سفارتکاروں کا اس وقت پیچھا کیا جب وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک تقریب کے لیے آئے تھے۔

مغربی کنارا 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ جہاں فلسطینی اسرائیل کی فوج اور ناجائز بستیوں میں آباد کیے گئے یہودی آبادکاروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں۔ پچھلے چھ ماہ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں لگ بھگ 400 فلسطینی جاں بحق کیے گئے ہیں۔ منگل کے روز یورپی سفارتکاروں کا تعاقب اسی مغربی کنارے میں دیکھنے میں آیا۔

ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر دکھائی گئی ہے اس میں اٹلی کے قونصل جنرل ڈومینیکو بیلاٹو کو جلدی سے فلسطینی میوزیم سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ فلسطینی میوزیم رام اللّٰہ شہر کے قریب ہے۔ جہاں منگل کے روز بڑی تعداد میں فلسطینی مظاہرین موجود تھے۔ تاکہ یورپی ملکوں کے سفارتکاروں کو یہ باور کرا سکیں کہ ان کی اسرائیل نواز پالیسی کی وجہ سے کس طرح ہزاروں فلسطینی ہلاک ہو رہے ہیں اور غزہ میں بدترین تباہی کے ساتھ ساتھ پورے فلسطین میں فلسطینیوں کی زندگی اور بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔

مظاہرین میں بڑی تعداد فلسطینی طلبہ کی تھی۔ جو نہیں چاہتے تھے کہ یورپی ملکوں کے یہ سفارت کار فلسطینیوں کی نسل کشی کے بالواسطہ یا بلا واسطہ شراکت دار ہونے کے باجود فلسطینی میوزیم میں تقریب کے شرکاء بنیں۔

مظاہرین میں شامل ایک طالب علم عمر قائد نے کہا 'ہم نے انہیں میوزیم سے چلے جانے کے لیے کہا تھا۔'

موقع پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ مظاہرین کا ہجوم جرمنی کے سفارتکار کی تلاش میں تھا۔ جرمنی غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی حمایت کے لیے بطور خاص ان دنوں مظاہرین کی تنقید کے نشانے پر رہا ہے۔

کرسچن کسلر جرمنی کے نمائندہ دفتر کے رام اللّٰہ میں ترجمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی میوزیم سے یورپی یونین کے لوگوں کو آج واپس جانا پڑا ہے۔ یہ واقعہ ظہرانے کے وقت پیش آیا۔ جب مظاہرین میوزیم کے باہر بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔

کسلر کے مطابق اس موقع پر یورپی یونین کے سفارتی مشنوں کے سربراہ موجود تھے۔ ان میں جرمنی کے سفارتی سربراہ بھی موجود تھے۔ جنہوں نے صورتحال کو دیکھ کر موقع سے کھسک جانا بہتر سمجھا۔ ترجمان کے مطابق ان کا دفتر صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لے رہا ہے۔

خیال رہے قومی فلسطینی میوزیم مغربی کنارے میں رام اللّٰہ کے شمال میں واقع ہے۔ یہ بیر زیتھ یونیورسٹی سے بالکل جڑا ہوا ہے۔ جب یہاں سے سفارتکاروں کو نکلنے کے لیے کہا جا رہا تھا اس موقع کی ویڈیو میں ایک شخص کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔ جو کہہ رہا تھا 'آؤٹ' ۔

دوسری فوٹیج میں سفارتکاروں کے پاس موجود اشیاء کو ہجوم کے درمیان روک لیا گیا تھا۔ یہاں پر فلسطینی شہری کھڑکیوں کو بجا بجا کر دستک دے رہے تھے اور ان پر کچھ اشیاء بھی پھینک رہے تھے۔

فلسطینی میوزیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تقریب کے سلسلے میں یورپی ملکوں کے سفارتکاروں کے ساتھ اک فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔ اس لیے ان سفارتکاروں کو دعوت نہیں دی گئی تھی جو تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

میوزیم کے بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ ایسے سفراء بھی یہاں آئیں گے تو ہم ہال کرائے پر دینے سے انکار کر سکتے تھے۔ ہمارے علم میں صرف یہ تھا کہ بیلجیئم کے سفارت خانے نے ہال کے ساتھ والا کمرہ کرائے پر لیا ہے۔ جو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شروع سے ہی فلسطینیوں کے حق میں بیان دے رہا ہے۔

جرمنی کے سفارتی مشن کے سربراہ اولیور اوزاکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے 'ہمیں آج یورپی سفارتی مشنوں کے سربراہان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر افسوس ہے۔ جو مظاہرین کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنے فلسطینی شراکت داروں کے ساتھ مثبت اور تعمیری کام کے لیے موجود رہیں گے۔'

علاوہ ازیں فلسطینی پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جو کینیڈین نمائندے کی طرف پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ منگل کے روز کینیڈین سفارتکار کو بھی اس صورتحال کا سامنا اس لیے کرنا پڑا کہ ان کا ملک بھی غزہ وار میں فلسطینیوں کے خلاف پوزیشن لیے ہوئے ہے۔

یہ مظاہرے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب بین الاقوامی عدالت انصاف نے غزہ جنگ میں جرمنی کی طرف سے اسرائیل کو بھیجے گئے فوجی سامان کے خلاف نکاراگوا کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں