یروشلم میں اسرائیلی کو چاقو گھونپنے والا ترک سیاح امام مسجد نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے باب الساھرہ کےقریب ایک ترک سیاح کو ہلاک کیے جانےکی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہےکہ ترک سیاح کو اس وقت گولی ماری گئی جب اس نے باب الساھرہ کے مقام پر ایک اسرائیلی پر چاقو سے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا تھا۔

ترک میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ 34 سالہ حسن ساکلانان جنوب مشرقی ترکیہ کی ریاست سنلیورفا میں ایک مسجد کے امام کے طور پر کام کرتا تھا۔ وہ اپنے قتل سے 72 گھنٹے قبل ایک ترک سیاحتی گروپ کے حصے کے طور پر یروشلم گیا تھا۔

ساکالان سے ملنے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ اس کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1990ء کی ہے اور وہ شانلی اورفا ریاست میں پیدا ہوا۔ وہ ایک شادی شخص شخص اور ترکیہ میں مسجد کا پیش امام تھا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوجیوں نے علاقے میں کچھ ترک سیاحوں کو مشتعل کیا۔ اسرائیلی ’کان‘ چینل کی طرف سے نشر ہونے والے مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ ترک سیاح کو چلتے ہوئے اچانک ایک اسرائیلی پولیس اہلکار پر چاقو سے وار کرتے ہوئے اس پر حملہ کرتے دکھایا گیا لیکن موقع پر موجود ایک اور شخص نے اس شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں ایک پولیس اہلکار پر چاقو سے حملہ کرنے کے بعد ایک شخص کو ہلاک کر دیا جب اس نے پرانے شہر کے باب الساہرہ کے علاقے میں پولیس پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے فائرنگ کر کے ملزم کو قتل کردیا اور اس کے قبضے سے اقو برآمد کر

ترک سیاح کے پاسپورٹ کا عکس
ترک سیاح کے پاسپورٹ کا عکس

لیا گیا۔

پولیس اہلکار کے جسم کے بالائی حصے پر چوٹ آئی ہےاور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آور 34 سالہ ترک شہری ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا۔

بیماری کی وجہ سے

اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے اس ہوٹل پر چھاپہ مارا جہاں حملہ آور ٹھہرا ہوا تھا۔

ترکیہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے صارفین نے ایسی معلومات شائع کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساکلانان بیماری کا بہانہ بنا کر اپنے گروپ کے دوسرے لوگوں سے الگ ہوگیا تھا۔

حسن ساکلانان کا نام ترکیہ میں سوشل میڈیا پر "شہید ترک ہیرو" کے ہیش ٹیگ کے تحت ٹرینڈ کررہا ہے۔ حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی اتحادی ہدا بار پارٹی نے ساکلانان کے اہل خانہ اور ترک عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں