" اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے صدر نے اپنے سرپرست اتحادیوں اور دوستوں سے پُرزور اپیل کی ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کے خلاف ممکنہ کارروائی روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔ وہ بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ تل ابیب میں ملاقات کر رہے تھے۔

اضحاک ہرزوگ نے اس موقع پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے غزہ اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں تحقیقات کے عمل کے خلاف سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

اسرائیلی صدر نے کہا 'اسرائیل کا قانونی نظام بہت مضبوط ہے اور ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی ہے۔ اس ماحول میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات قابل مذمت ہیں۔ ایسے ملک کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کا تحقیقات کرنا جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ واضح طور پر جمہوریت کے لیے خطرناک بات ہے۔' انہوں نے اسرائیلیوں کا نام لیے بغیر کہا 'خصوصاً ایک ایسی قوم جو امن سے محبت کرتی ہے اور جو بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی پیروی کرتی ہو۔'

واضح رہے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا یہ مسلسل چھٹا دورہ ہے جو انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد کیا ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے 34535 فلسطینیوں کو غزہ میں قتل کیا ہے۔ 77705 کو زخمی کیا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو بےگھر کیا ہے اور تقریباً پورے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق اس ملںے میں کم از کم 10 ہزار فلسطینیوں کی لاشیں ابھی بھی دبی ہوئی ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس تباہ حال علاقے میں ناکہ بندی جاری رکھتے ہوئے ایک اسرائیلی ساختہ قحط کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے جنوبی افریقہ کی درخواست پر اسرائیل کو نسل کشی سے بچنے کے اقدامات کے لیے کہا تھا۔

اسرائیلی صدر نے وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا 'میں نے اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اس طرح کی تحقیقات مسترد کر دے۔'

اسرائیلی صدر نے اپنے اتحادیوں سے یہ اپیل ایسے موقع پر کی ہے جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں فلسطینیوں کی اجتماعی قبروں کی دریافت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقاتی کمیٹی جنگ کے دوران بنائی گئی فلسطینیوں کی ان اجتماعی قبروں کو دیکھ چکی ہے۔

صدر کی اس گفتگو سے پہلے یہ عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت اسرائیلی وزیراعظم سمیت دوسرے فوجی و حکومتی عہدیداروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر سکتی ہے۔

اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو صدر جوبائیڈن سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کر چکے ہیں۔ مزید وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ 'بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کے کسی جنگی و فوجی اقدام میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے چیلنج کر سکتی ہے۔ خصوصاً جب تک اسرائیل میری قیادت میں ہے ، ایسا کچھ نہیں ہوگا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں