ناروے کے 'ویلتھ فنڈ' کو اسرائیلی سرمایہ کاری پر دباؤ کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ناروے کے 'ویلتھ فنڈ' پر غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ انویسٹمنٹ بند کی جائے۔ منگل کے روز ناروے کے ارکان پارلیمنٹ اور غیر سرکاری تنظیموں کا یہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔

فنڈ سے متعلق تحقیقات میں پہلے ہی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا جن اسرائیلی کمپنیوں کے حصص 1.6 ٹریلین ڈالر کے فنڈ میں شامل ہیں وہ سرمایہ کاری شرائط پر پورا اتر رہی ہیں یا نہیں۔

فنڈ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف یہ کر لینا کافی نہیں ہے کہ کیونکہ فنڈ کی پیش کردہ سفارشات کو عملی جامہ پہنانے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے سال 2023 کے اختتام تک 76 اسرائیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ یہ سرمایہ کاری 1.36 ارب ڈالر تک کی تھی۔ یہ سرمایہ کاری ریئل اسٹیٹ، بینک، توانائی اور ٹیلی کام کے شعبے میں بھی کی گئی۔ جس کا مجموعی سرمایہ کاری میں 0.1 فیصد حصہ تھا۔

ناروے میں فلسطینی رہنما لائن خطیب نے 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا 'اسرائیلی معیشت کا انحصار بین الاقوامی سرمایہ کاری اور امریکی حمایت پر ہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی معیشت سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ ' اس موقع پر غزہ جنگ کی مخالفت کرنے والے مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر 'اب سرمایہ کاری نہیں' لکھا گیا تھا۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی قانون ساز کیری الزبتھ کاسکی نے وزیر خزانہ اور فنڈ حکام سے پوچھا 'غزہ جنگ کے پیش نظر اصول و ضوابط میں سختی کیوں نہیں کی گئی ہے؟' قانون ساز الزبتھ کاسکی چاہتی ہیں کہ ناروے کی پارلیمنٹ اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔ نیز فنڈ حکام کو ہدایت کی جائے کہ اسرائیلی کمپنیوں کو فروخت بند کرے۔

ناروے کے مرکزی بینک کے سربراہ لڈا وولڈن باچے نے کہا 'اصول و ضوابط کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان پر سیاسی اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے۔ 'ویلتھ فنڈ' پارلیمنٹ کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں فلسطینیوں کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال کے پیش نظر 9 اسرائیلی کمپنیوں سے دستبردار ہو چکے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں