ابھی ضرورت نہیں ،کوئی مجبوری بنی تو اردن حماس قیادت کا مسکن بن سکتا ہے:مرزوق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے سینئر ذمہ دار نے کہا ہے' قطر میں جاری قیام کسی مسئلے سے دوچار ہوا یا قطر میں قیام کے حوالے سے ایسے حالات بن گئے کہ مجبورآ چھوڑنا پڑا تو حماس کی قیادت کی نظر اردن میں قیام پر ہوگی۔'اس امر کا اظہار حماس رہنما موسی ابو مرزوق نے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بات اصرار کے ساتھ کہی کہ حماس کی قیادت کے قطر چھوڑنے کے بارے میں ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔' مگر ایسا کرنا پڑا تو اردن متبادل منزل قرار پائے گا' ۔ ان کا کہنا تھا حماس کی قیادت کے قطر سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کی باتیں ابھی تک کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ اگر ایسا موقع آیا کہ حماس کی قیادت کو کہیں جانا پڑا تو اردن ہی متبادل منزل قرار پائے گی۔

ابو مرزوق نے یہ بات ایران کے عربی زبان میں نشریات کے حآمل چینل العالم نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پچھلے ہفتے کے اواخر میں کہی ہے۔

اردن کے بارے میں ایک سوال پر ابو مرزوق نے کہا 'اردن کے ساتھ حماس کی قیادت کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ حماس رہنماؤں کی اکثریت کے پاس اردنی پاسپورٹ بھی موجود ہیں۔'
اپنے انٹرویو کے دوران حماس رہنما نے یہ دعوی بھی کیا کہ ' حماس رہنما اس لیے قطر میں موجود ہیں کہ آمریکہ ںے حماس قیادت کے دوحہ میں اس کا میزبان بننے کے لیے قطر پر دباؤ ڈالا تھا۔' ان کے مطابق 'اگر یہ سہولت جاری نہ رہی تو حماس کی قیادت اپنےنئے اور فطری جائے قیام کے طور پر اردن میں ہوگی.'

دوسری جانب اردن کے سابق وزیر اطلاعات سمیع المائتہ نے اسی تناظر میں ' العربیہ ' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ' عمان کسی غیر اردنی تنظیم کو اپنی سرحدات کے اندر کام۔کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ کیونکہ اردن کوئی ہوٹل نہیں ہے کہ جو چاہے آکر رہنا شروع کر دے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن اور مرکزی رہنما غازی حماد نے ' العربیہ ' کے ساتھ اسی موضوع پر ںات کرتے ہوئے کہا ' ابھی تک حماس کے اندر اردن منتقلی کے معاملے پر کوئی سنجیدہ غور نہیں کیا گیا ہے۔'

غازی حماد نے کہا ' حماس کے خلیجی ملک کے ساتھ شاندار تعلقات موجود ہیں۔ابھی قطر پر کوئی ایسا دباو بھی نہیں ہے کہ حماس کی قیادت کو دوحہ میں نہ رہنے دیا جائے۔'

دوسری جانب حماس اور اردن کے درمیآن کشیدگی 1999 پیدا ہوئی تھی جب اردن نے حماس سربراہ ا خالد مشعل کو اردن سے نکال دیا تھا۔ اسی طرح ماضی میں ترکیہ بھی حماس کے قائدین کی میزبانی کر چکا ہے

۔پیر کے روز ترک وزیر خارجہ نے ' العربیہ ' کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ' وقتی طور پر تو حماس قیادت کو ترکیہ میں منتقل کر بعید از قیاس ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں