اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کی اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے جمعرات کے روز متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے متحدہ عرب امارات کے دورہ کے موقع پر جمعرات کے روز کی ہے۔ ملاقات کے بارے میں امارات کی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات ان تین عرب ملکوں میں سے ایک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔ لیکن 7 اکتوبر کو اسرائیل و فلسطین کے تنازع میں اضافے کے بعد سے امارات نے اسرائیل کے خلاف سفارتی سطح پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ بعض مبصرین اسے تعلقات ختم کرنے کی کوشش کا نام دیتے ہیں۔

کیونکہ متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی فورمز پر غزہ میں فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کے حوالے سے ایسی کوششیں کیں اور مؤقف اختیار کیا جو اسرائیل کے لیے تکلیف دہ رہا۔ تاہم متحدہ عرب امارات کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر بگڑتے ہوئے انسانی حالات کے تناظر میں وزیر خارجہ نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر لیپڈ کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید نے غزہ میں جاری 7 ماہ سے جنگ کو روکنے اور مسئلے کے دو ریاستی حل کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے مسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے راستہ بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ جس کے نتیجے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکے۔

خیال رہے اسرائیل کو وسیع پیمانے پر عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کے ساتھ ملاقات کے دوران غزہ کی پٹی کی دگرگوں صورتحال اور غزہ میں خوراک کی ترسیل و امدادی کاموں سے متعلق سرگرمیوں پر تفصیلی بات کی۔ نیز رفح پر حملے کے اسرائیلی منصوبے کے مضمرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

شیخ عبد اللہ بن زاید نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی اہمیت واضح کی اور کہا خطے میں کشیدگی کو پھیلانے کے خطرات کم کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے سوشل میڈیا پر اپنی عبرانی زبان کی ایک پوسٹ میں کہا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری رہائی ضروری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے ملک یا ان میں سے کوئی ایک معاہدے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

لیپڈ نے مزید کہا اسرائیل متحدہ عرب امارات اور دوسرے اعتدال پسند ملکوں کے ساتھ مل کر سیاسی و اقتصادی شعبے میں کام کرنا چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ باہمی تعاون سے عالمی مسائل کا حل پیش کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں