حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے اسرائیل نے فرانس کی تجویزقبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی محاذ پر حزب اللہ کے ساتھ 7 اکتوبر سے جاری جھڑپوں کے تسلسل کے درمیان فرانسیسی ثالثی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جاری ہے۔

بالواسطہ مذاکرات

اسرائیلی چینل 13 نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ فرانس نے اسرائیل اور لبنان کو شمالی محاذ کے لیے ایک سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پیرس میں بالواسطہ مذاکرات کرنے کی پیشکش کی ہے۔

چینل نے بتایا کہ اسرائیل نے سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے پیرس کی پیشکش کی منظوری کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع نے فرانسیسی پیشکش کے بارے میں کوئی تفصیلات ظاہرنہیں کیں لیکن صرف تل ابیب کی منظوری کی تصدیق کی۔

یہ پیشرفت اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے علاقے سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں جنوبی لبنان کے "بڑے علاقوں پر قبضہ" کرنے کی دھمکی کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو بتایا کہ اگرحزب اللہ پیچھے نہیں ہٹی تو اسرائیل اس کے ساتھ "ہر قسم کی جنگ ہوسکتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل پورے لبنان میں حزب اللہ سے لڑے گا اور جنوبی لبنان کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقے ایک سکیورٹی زون کے طور پر فوج کے کنٹرول میں رہیں گے۔

یہ منگل کو سیگورنی کے اسرائیل پہنچنے کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی، مشرق وسطیٰ کے دورے کے ایک حصے کے طور پر یروشلم اور تل ابیب کا 24 گھنٹے کا دورہ جس میں لبنان اور سعودی عرب شامل تھے۔

اس کے بعد سیگورنی نے کہا کہ فرانسیسی حکام نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے لبنانی حکام کو پیش کی جانے والی تجاویزکواسرائیل کے ساتھ شیئر کیا اور پیرس دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر نے اتوار کو لبنان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے حزب اللہ کے قریبی سیاستدانوں سمیت حکام سے ملاقاتیں کیں۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں لبنانی حکام کے ردعمل میں پیش رفت ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں