سعودی عرب میں ریلیز کی جانے والی فلم ’انڈر گراؤنڈ‘ کی کہانی کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے فلم فیسٹیول نے دسویں سیشن کے افتتاح کے موقعے پر نمائش کے لیے ہدایت کار عبدالرحمن صندقجی کی فلم "انڈر گراؤنڈ" کا انتخاب کیا۔ یہ فلمی میلہ آج جمعرات کو ظہران کے "اثرا" سینٹر میں شروع ہواہے۔

یہ فلمی میلہ "سائنس فکشن سینما"کے عنوان سے جاری ہےجو آٹھ دن تک جاری رہے گا۔ اس میلے کے انعقاد میں اہتمام کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچرل "اثرا" کے زیراہتمام کیا گیا جب کہ اسےوزارت ثقافت کا تعاون بھی حاصل ہے۔

فلمی میلے میں نمائش کے لیے پیش کی گئی پہلی فلم"انڈر گراؤنڈ" سعودی عرب میں موسیقی کی صنعت کی حقیقت کے بارے میں ایک تحقیقاتی فلم ہے۔ یہ باصلاحیت لوگوں کے تجربات اور کہانیوں کو ان کے چیلنجوں، جذبوں، خوابوں اور ان کے پیشے کے رازوں کے گرد گھومتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے صندقجی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر میری فلم کو دکھانے کے لیے منتخب کیا گیا۔

یہ ایک شاندار سرپرائز تھا اور میں نے اپنی تمام شرکتوں کو سراہا جو میں نے 15 سال کے دوران فلم انڈسٹری کے شعبے میں کی ہیں۔ میں نے فیسٹیول کے دوسرے سیشن میں فلم کی نمائش پر فخر کا اظہار کیا

چھ ہیرو

فلم ’انڈر گراؤنڈ‘ میں 6 ہیروز نے اداکاری کے جوہر دکھائے ، جن میں سے پہلے عماد مجلّد ہیں، جو کئی میوزیکل بینڈز کے ڈرمر ہیں۔اس کے علاوہ حمزہ ھواساوی گلوکار اور میوزک پروڈیوسر ہیں۔ نوف سفیان ڈی جے ہیں۔ احمد حکیم ایک ڈی جے ہیں اور وہ سولو گٹار پلیئر مانے جاتے ہیں۔۔احمد شاولی میوزک اسٹوڈیو کے مالک ہیں جو کہ آزاد موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور آخر میں سلمیٰ مراد کا نام ہے جو ایک بصری موسیقار اور فلم ڈائریکٹر ہیں۔

فلم سازی

جہاں تک فلم "انڈر گراؤنڈ" کی تیاری کا تعلق ہے صندقجی کہتے ہیں کہ فلم کو آرٹسٹک انداز میں لائٹنگ اور جدید سینما کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا۔ ہم نے اس کام کی تیاری میں اپنا پورا وقت لگایا۔ فلم کے لیے ایک لائیو گانا ریکارڈ کیا گیا تاکہ اسے ایک کلپ کے طور پر استعمال کیا جائے جس کے ذریعے کوئی بھی ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھا سکے، فلم بنانے میں اس کی خوبصورتی، احساس کی گہرائی، فنکارانہ پہلوؤں کا خاص خیال رکھا گیا اور یہی چیزاسے دوسری فلموں سے ممتازکرتی ہے۔ فوٹو گرافی، موسیقی، لائیو پرفارمنس، اور ساؤنڈ ریکارڈنگ ہرکام کو بھرپور محنت سے کیا گیا۔

انہوں نے کاہ کہ مجھے سچی کہانیاں پسند ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کسی بھی چیز کے لیے حقیقی ترغیب صرف ایک سچی کہانی سے ہی ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں