داعش کے حملوں میں 15 شامی فوجی ہلاک: مانیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

داعش کے شدت پسندوں نے جمعہ کو شام کے صحرا میں تین فوجی ٹھکانوں پر حملے کر کے شامی حکومت کے حامی کم از کم 15 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔

یہ انتہا پسندوں کی باقیات کی طرف سے اپنی نوعیت کا تازہ ترین حملہ ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا، انہوں نے "مشرقی حمص کے دیہی علاقوں میں حکومتی افواج اور ان کے وفادار جنگجوؤں کے تین فوجی مقامات پر حملہ کیا جس سے مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں اور حکومت کے حامی 15" جنگجو مارے گئے۔

داعش نے 2014 میں شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے نام نہاد خلافت کا اعلان کیا اور دہشت گردی کا راج شروع کر دیا۔

اسے 2019 میں شام میں علاقائی طور پر شکست ہوئی تھی لیکن اس کی باقیات نے مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جو بالخصوص وسیع صحرا میں حکومت کی حامی افواج اور کردوں کے زیرِ قیادت جنگجوؤں کے خلاف ہیں۔

داعش کی باقیات ہمسایہ ملک عراق میں بھی سرگرم ہے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ گذشتہ ماہ داعش گروپ کے شدت پسندوں نے شام کی حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں پر دو حملوں میں 28 شامی فوجیوں اور اس سے منسلک حکومت نواز افواج کے اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

شام کے اندر خبری ذرائع کے نیٹ ورک کے حامل آبزرویٹری کے مطابق بہت سے لوگ فلسطینی جنگجوؤں پر مشتمل ایک گروپ القدس بریگیڈ کے ارکان تھے جسے حالیہ برسوں میں دمشق کے اتحادی ماسکو کی حمایت حاصل رہی ہے۔

آبزرویٹری نے اس وقت کہا تھا کہ اُن حملوں میں سے ایک میں داعش کے شدت پسندوں نے مشرقی حمص صوبے میں ایک فوجی بس پر فائرنگ کی تھی۔

آبزرویٹری نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ مشرقی شام میں ایک فوجی مرکز پر داعش کے حملے میں چھ شامی فوجی مارے گئے۔

شام کی جنگ مارچ 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف دمشق کے وحشیانہ جبر سے شروع ہوئی جس کے بعد سے اب تک نصف ملین سے زیادہ افراد کی جانیں جا چکی ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

پھر اس جنگ نے غیر ملکی طاقتوں، ملیشیاؤں اور انتہا پسندوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

مارچ کے اواخر میں مانیٹر نے کہا تھا کہ اس وقت داعش کے شدت پسندوں نے گھات لگا کر حملے کے بعد آٹھ شامی فوجیوں کو "پھانسی" دے دی۔

شدت پسند صحرائی ٹرفلز (دنیا کا ایک مہنگا اور نایاب پھل) کا شکار کرنے والوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ یہ ایک ایسی عمدہ غذا ہے جو جنگ سے تباہ حال معیشت میں زیادہ قیمت پر فروخت ہو سکتی ہے۔

آبزرویٹری نے مارچ میں کہا تھا کہ داعش نے ٹرفل کے کم از کم 11 شکاریوں کو بم دھماکہ کرکے ہلاک کر دیا تھا جب ان کی گاڑی شمالی شام کے صوبہ رقہ کے صحرا سے گذر رہی تھی۔

شام کی وزارتِ دفاع نے قبل ازیں جمعہ کو کہا تھا کہ ملک میں الگ بدامنی میں دمشق کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں میں آٹھ فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ اسرائیل نے دمشق کے دیہی علاقوں میں ایک سرکاری عمارت پر حملہ کیا ہے جسے 2014 سے لبنان کا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ استعمال کر رہا ہے۔

شام کی خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے شام میں سینکڑوں حملے کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر فوجی ٹھکانوں اور ایران کے حمایت یافتہ مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں