فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں حماس کی قید میں یرغمالی ہلاک، اسرائیل کی جانب سے تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت نے جمعہ کی صبح کہا کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں یرغمال بنائے گئے ایک اسرائیلی شخص کی غزہ میں ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

بیئری کیبٹز جہاں 49 سالہ ڈرور اور رہتا تھا، نے کہا کہ وہ مارا گیا تھا اور اس کی لاش سات اکتوبر سے غزہ میں رکھی گئی تھی۔ بیئری کیبٹز ان کمیونٹیز میں سے ایک تھی جو غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے میں سب سے زیادہ متأثر ہوئیں۔

اس کی بیوی یونات ابتدائی حملے میں ماری گئی تھی جبکہ ان کے تین میں سے دو بچوں نوم اور الما، 17 اور 13 سالہ کو اغوا کر لیا گیا تھا اور پھر نومبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی حکومت نے ایکس پر کہا، "ہم یہ بتاتے ہوئے دل شکستہ ہیں کہ ڈرور اور جسے حماس نے سات اکتوبر کو اغوا کر لیا تھا، اس کے قتل ہونے کی تصدیق ہو گئی تھی اور اس کی لاش غزہ میں رکھی گئی ہے۔" پوسٹ میں مزید کہا گیا، دونوں بچے اور ان کا بھائی یاہلی اب یتیم ہیں۔

حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ اسے اور کی موت کا علم کیسے ہوا۔

اس شخص کی موت کا اعلان ایسے وقت میں ہوا جب ثالثین قطر، امریکہ اور مصر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی نئی تجویز پر حماس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

نومبر کے آخر میں ایک ہفتہ طویل جنگ بندی کے دوران 105 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا جن میں 80 اسرائیلی اور دوسرے ممالک کے لوگ شامل تھے۔ اِن کے بدلے میں اسرائیل کے زیر حراست 240 فلسطینیوں کی رہائی ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں