غزہ کے الشفاء ہسپتال کے سینئیر ڈاکٹر اسرائیلی جیل میں جاں بحق

چار ماہ سے بھی پہلے اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کی جیل میں چار ماہ سے زائد قید میں رہنے والے غزہ کے الشفاء ہسپتال کے ایک اہم اور سینئیر ڈاکٹر جیل میں ہی انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی اسرائیلی جیل میں اس مظلومانہ ہلاکت کا اعلان فلسطینی قیدیوں کے امور کو دیکھنے والی دو مختلف ایسوسی ایشنوں نے جمعرات کے روز کیا ہے۔ دونوں نے اس سینئیر ڈاکٹر کو حالت قید میں مارنے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں جبر و تشدد کی زد میں رہنے والے فلسطینی قیدیوں کے حالات سے اپ ڈیٹ رہنے والی اور باخبر رکھنے والی دونوں ایسوسی ایشنوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عدنان البرش غزہ کے سب سے بڑے الشفاء ہسپتال میں آرتھو پیڈک کے شعبے میں سربراہ شعبہ کے طور پر کام فرائض انجام دے رہے تھے۔ تاہم وہ الشفاء کے ساتھ ساتھ غزہ کے دوسرے ہسپتالوں میں بھی بلائے جانے پر خدمات پیش کر دیتے تھے۔

جیسا کہ چار ماہ سے زیادہ عرصہ قبل جب اسرائیلی فوج نے انہیں شمالی غزہ کے العودہ ہسپتال میں پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ان دنوں العودہ ہسپتال پر حملہ کیا تھا۔ خیال رہے غزہ میں اسرائیلی فوج کے باقاعدہ حملوں اور جنگی کارروائیوں سے اب تک شاید ہی کوئی ہسپتال محفوظ رہ سکا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تقریبا ہر ہسپتال پر حملہ کیا اور ہسپتال کو تباہ کرنے کے علاوہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے افراد کو جاں بحق، زخمی اور گرفتار کرتی رہی۔

الشفاء ہسپتال پر اسرائیلی فوج نے دوبار طویل حملے کیے اور بالآخر اسے بھی تباہ کر کے رکھ دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسی الشفاء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے فلسطینیوں کی اجتماعی قبریں تلاش کی ہیں۔ ڈاکٹر عدنان البرش اڈی الشفاء ہسپتال میں آرتھو پیڈک شعبے کے سربراہ تھے۔ قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں میں حالت زار کے بارے میں رپورٹس مرتب کرنے والی ان ایسوسی ایشنوں نے ڈاکٹر عدنان البرش کی اس قید میں ہلاکت کو اسرائیلی فوج اور جیل انتظامیہ کے ہاتھوں دوران حراست قتل قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر عدنان کی دوران حراست ہلاکت کے بارے میں اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جیل انتظامیہ نے 19 اپریل کو ہی ان کی ہلاکت کی اطلاع دے دی تھی۔ فوجی ترجمان کے مطابق ڈاکٹر عدنان کو اسرائیلی سلامتی کے تقاضے کے طور پر جیل میں رکھا گیا تھا۔ تاہم فوجی ترجمان نے اتنے دن گزرنے کے باوجود ڈاکٹر عدنان کی اس حراستی ہلاکت کی وجوہات کو بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے طبی فورمز بشمول عالمی ادارہ صحت نے بار بار غزہ میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے دوسرے ارکان پر اسرائیلی فوج کے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ طبی عملے پر تشدد اور اس کی گرفتاریوں کی مخالفت اور مذمت کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے ہسپتالوں پر بمباری اور ٹینکوں کے زریعے گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اب تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں ڈاکٹروں یا طبی عملے کے ارکان کو 200 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ زخمی یا گرفتار کیے گئے طبی عملہ ارکان کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے ڈاکٹر عدنان کے بارے میں اپنے بیان میں کہا ہے ان کی جیل میں شہادت کے بعد اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے دوران طبی شعبے سے وابستہ 496 ارکان کی شہادتیں ہو چکی ہیں۔ جبکہ تقریبا سات ماہ کے دوران طبی عملے کے مجموعی طور پر 1500 ارکان کو اسرائیلی فوج نے مختلف کارروائیوں میں زخمی کیا ہے۔

وزارت صحت غزہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان سات ماہ کے دوران اسرائیلی فوج نے طبی عملے کے 309 ارکان کو مختلف ہسپتالوں سے حراست میں لیا ہے۔ الشفاء ہسپتال کے شہید ہونے والے ڈاکٹر عدنان البرش بھی انہی اسیران میں سے ایک تھے۔

دوسری جانب اسرائیل حماس پر الزام لگاتا ہے کہ حماس غزہ کے ہسپتالوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حماس نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔ اب بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقاتی ٹیم کی غزہ کے ان تباہ شدہ ہسپتال اور کے طبی عملے تک رسائی ہو گئی تو حقائق سامنے آنے کا امکان بڑھ جائے گا۔

جمعرات کی صبح بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے 64 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ ان سب کو غزہ کی جاری جنگ میں ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن ان کو جس تشدد اور اذیت سے گزارا گیا اور اس کے بعد بھی کوئی جرم ثابت نہ ہو سکا اس لیے انہیں چھوڑنا پڑا۔ ان رہائی پانے والوں میں ایک ایسے قیدی کی لاش کو بھی اسرائیلی جیل سے رہائی ملی ہے جس کی ہلاکت اسیری کے دوران ہی ہو گئی تھی۔ یہ ڈاکٹر عدنان کے علاوہ ایک اور اسیر تھے۔

بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عدنان البرش کی لاش ابھی تک اسرائیلی قید میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں