کیاایرانی پاسداران انقلاب کا بریگیڈیئر جنرل اور بانی حزب اللہ لبنان امریکی جاسوس تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا عسکری یا "رضا عسکری" جو سابق ایرانی وزیر دفاع علی شمخانی کے معاون کے طور پر بھی کام کرتے تھے ایک پراسرار شخصیت ہیں۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے انجام کا کوئی پتہ نہیں۔ انہوں نے غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ تعاون کیا۔ اس لیے وہ ایک جاسوس تھے تاہم کچھ دوسرے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ اسے امریکہ اور اسرائیل نے اغوا کیا تھا، اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس نے یروشلم کے شمال مغرب میں واقع رملہ میں واقع ایالون جیل میں خودکشی کی۔

ایرانی اور مغربی میڈیا میں برسوں کی قیاس آرائیوں اور رپورٹوں کے بعد ایران انٹرنیشنل ویب سائٹ نے حال ہی میں ایک رپورٹ کے ذریعے یہ دعویٰ کیا ہے کہ علی رضا عسکری ایک نئی شناخت کے تحت امریکہ میں رہ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنرل عسکری نے امریکہ کو درست اور حساس عسکری معلومات فراہم کیں اور حسن روحانی کی حکومت میں معاون وزیر دفاع محسن فخر زادہ کی شناخت ظاہر کی جسے ایران میں ایک پیچیدہ آپریشن میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اور اسے ایرانی جوہری پروگرام کا گاڈ فادر کہا جاتا تھا۔

لبنانی حزب اللہ کے بانی!

"سنڈے ٹائمز" کے مطابق 1980ء کی دہائی میں وہ لبنان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی کمانڈو فورسز کے رکن تھے اور وہ 1990ء کی دہائی میں لبنان میں ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹوں میں سے ایک تھے اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کے مطابق وہ ایک فوجی تھا مگر جو نقل و حمل کا ذمہ دار تھا۔ گرفتار اسرائیلی پائلٹ رون آراد ایران واپس آیا اور محمود احمدی نژاد کے صدارتی انتخاب کے بعد برطرف ہونے تک اپنے عہدے پر برقرار رہا۔ .

اخبار "مشری نیوز" کے مطابق ایرانی پولیس کے سابق سربراہ اور سپریم ڈیفنس یونیورسٹی کے موجودہ ڈین بریگیڈیئر جنرل اسماعیل احمدی مغل نے ایک فوجی کے لاپتہ ہونے پر کہا کہ اس نے کسی ملک میں پناہ نہیں لی تھی، بلکہ اس کی تلاش تھی۔ انہوں نے کہا کہ "جس دن وہ پاسداران انقلاب کی قیادت سے براہ راست لبنان گئے، اس دن حزب اللہ اور امل موومنٹ کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں"۔رضا عسکر کا دوسرا بڑا قدم حزب اللہ کو تمام فوجی، انٹیلی جنس، ثقافتی اور سیاسی عناصر کے ساتھ ایک مکمل جماعت کے طور پر تشکیل دینا تھا۔

ایران میں سزائے موت کا اعلان

ایرانی "انصاف نیوز" ویب سائٹ کے مطابق 2020ء میں ایرانی عدلیہ نے رضا عسکری نامی شخص پر سزائے موت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ جنرل علی رضا عسکری ہے۔

"انصاف نیوز" نے بتایا کہ اس وقت ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے وضاحت کی اور کہا تھا ہم نے وزارت دفاع کے ایرو اسپیس فورس کے ایک ریٹائرڈ ملازم کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد کیا ہے اور وہ 2017 سے ریٹائر ہو چکا تھا ۔ اس کے بعد اس نے امریکی سینٹرل کمانڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انٹیلی جنس ایجنسی نے اسے گرفتار کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ اس کے خلاف جو سزا سنائی گئی تھی اس پر عمل کیا گیا۔

کچھ ذرائع ابلاغ نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ جس شخص کو پھانسی دی گئی وہ درحقیقت "علی رضا عسکری" تھا جس نے عسکری کی اہلیہ کے ردعمل اور ایران کے سیاسی حلقوں سے "جنرل علی رضا عسکری" کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔

"حزب اللہ کے مطابق اسے ترکیہ میں اغوا کیا گیا تھا اور اسرائیل میں قید کر دیا گیا تھا"۔

انصاف نیوز کے مطابق علی رضا عسکری کی اہلیہ زیبا احمدی نے جولائی 2020 میں ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ ’فارس ‘نیوز ایجنسی کو بتایا: میرے شوہر علی رضا عسکری سابق وزیر دفاع علی شمخانی کے معاون تھے اور ایک وفادار سپاہی تھے۔ اسلامی جمہوریہ کی مقدس حکومت کے لیےکام کرنے والے سپاہی پرجاسوسی کا الزام میرے شوہر کی توہین ہے۔

احمدی نے مزید کہا کہ "میرے شوہر بالکل بھی جاسوس نہیں تھے۔ وہ 2006 میں ریٹائر ہوئے اور انہیں اسرائیل نے ترکیہ میں اغوا کر لیا تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک ہی خبر ہے کہ وہ اس وقت اسرائیل کے شہر رام ا اللہ میں آیالون جیل میں قید ہیں۔"

اس نے مزید کہا کہ "میں اب بھی متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ اپنے شوہر کے بارے میں معلومات جمع کررہی ہوں اور لبنانی حزب اللہ نے مجھے یقین دلایا ہے کہ میرا شوہر اسرائیلی قابض ریاست کی جیلوں میں ہے"۔

ایران انٹرنیشنل رپورٹ: وہ امریکہ میں ایک نئی شناخت کے ساتھ رہتا ہے

علی رضا عسکری کے مستقبل کے بارے میں کئی سالوں کے ابہام کے بعد ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے ایک طویل رپورٹ شائع کی جس میں اس رپورٹ کے تعارف میں بیان کیا گیا ہے کہ "پاسداران انقلاب میں ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل ، لبنان میں پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر، سابق کمانڈر جنرل علی رضا عسکری پاسداران انقلاب میں آپریشنز کے امور کے سربراہ اور ایرانی وزارت دفاع کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل محمد خاتمی کی حکومت میں جو 9 دسمبر 2006 کو ترکی کے دورے کے دوران غائب ہو گئے تھے 17 سال بعد ان کےبارے میں متضاد معلومات ملی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس نے زیتون کی تجارت کے لیے شام اور ترکیہ کا سفر کیا، لیکن اس کے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی اور مشن پر تھا۔ بین الاقوامی میڈیا نے شروع سے اعلان کیا کہ علی رضا عسکری سی آئی اے کے ساتھ رابطے میں تھا۔ چنانچہ وہ خود امریکہ چلا گیا لیکن حکام ایران موساد اور سی آئی اے پر ایرانی پاسداران انقلاب کے اس سابق جنرل کو اغوا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

کئی مہینوں تک جاری رہنے والی تحقیقات کے مطابق “پاسداران انقلاب میں شامل یہ جنرل ایرانی حکومت سے منحرف ہو کر امریکہ فرار ہو گیا تھا۔ وہ اپنے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے عسکری جہتوں کے بارے میں حساس معلومات لے کر گیا، جو اس نے امریکیوں کو پیش کیں۔ اس نے ایران پر امریکی حملے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے مرحلے تک نہیں پہنچا ہے۔

"خصوصی" رپورٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ علی رضا عسکری حفاظتی پروگرام کے تحت برسوں سے ایک نئی شناخت کے تحت امریکہ میں مقیم ہیں۔

ان معلومات کی بنیاد پر امکان ہے کہ عسکری کو 2005ء میں تھائی لینڈ میں بھرتی کیا گیا تھا اور عسکری نے تہران کے ملٹری نیوکلیئر پروگرام کی مرکزی شخصیت کے طور پر محسن فخرزادہ کی شناخت امریکہ کو ظاہر کی تھی۔

اس رپورٹ میں علی رضا عسکری کی اہلیہ کے خاندان کے رشتہ داروں، ان کے تین جاننے والوں اور سابق ساتھیوں اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سابق کمانڈر کے انٹرویوز کیے گئے۔ ان میں عسکریہ کے تین قریبی لوگوں کے انٹرویو بھی شامل تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سابق کمانڈر کےیورپی سفارتی ذرائع اور امریکہ کے تین انٹیلی جنس ذرائع سےبھی انٹرویوز کیے گئے ہیں۔

عسکری کے بارے میں پچھلی رپورٹس

اس سے پہلے کہ بریگیڈیئر جنرل علی رضا عسکری کا انجام دوبارہ منظر عام پر آئے بین الاقوامی میڈیا نے ان کے بارے میں بہت سی متضاد معلومات شائع کیں۔ کچھ کا کہناہے کہ عسکری امریکہ فرار ہو گئے تھے، لیکن امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے اس کی تردید کی۔

8 مارچ 2007ء کو’واشنگٹن پوسٹ‘ اخبار نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا کہ رضا عسکری نے رضاکارانہ طور پر لبنانی حزب اللہ اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں مغربی انٹیلی جنس سروسز کو معلومات فراہم کی تھیں اور اس دھماکے کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی تھیں جو 1983ء میں لبنان میں امریکی اڈے پر ہوا تھا۔ اسرائیل نے عسکری کےاغوا کے کیس میں ملوث ہونے کی تردید کی اور 2014 کے وسط میں نیوز ویک میگزین نے دعویٰ کیا کہ عسکری نے ترکیہ میں لاپتہ ہونے کے بعد امریکہ سے سیاسی پناہ حاصل کی۔ ’سی آئی اے‘ کے تعاون سے وہ اب بھی امریکہ میں رہ رہے ہیں۔

مارچ 2009ء میں ایک جرمن صحافی اور جوہری سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے والے جرمن وزارت دفاع میں منصوبہ بندی کے عملے کے سابق سربراہ ہانس روہل نے اخبار "Neue Zürche Zeitung" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ اسرائیل نے حاصل کردہ معلومات کا استعمال کرتے ہوئے شام کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس مضمون میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے علی رضا عسکری سے معلومات حاصل کیں۔ ان معلومات میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران نے شام میں ان تنصیبات کے قیام کے لیے شمالی کوریا کو ایک سے دو ارب ڈالر ادا کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں