حماس تباہی اور تقسیم کا سبب،رفح پر حملہ ہوا تو خون کی ندیاں بہ جائیں گی: مشیر ابومازن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی صدر کے مشیر برائے مذہبی امور اور فلسطین کے چیف جسٹس ڈاکٹر محمود الھباش نےکہا ہےکہ رفح پر حملہ ایک ایسی تباہی ہوگی جو کھلے عام قتل عام کا باعث بنے گی جس میں ہزاروں افراد مارے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس رفح پر حملہ روکنے کی طاقت ہے وہ چاہے تو حملہ روک سکتا ہے۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہمیں اس وقت جس چیز کا سب سے زیادہ خدشہ ہے وہ رفح پر حملہ ہے کیونکہ اس میں تقریباً تین لاکھ فلسطینیوں کو جگہ دی جا سکتی ہے لیکن اس وقت وہاں ڈیڑھ ملین سے زیادہ ہیں۔ اگر اسرائیل خطرہ مول لے کررفح پر حملہ کرتا ہے تو یہ تباہی کھلے عام قتل عام کا باعث بنے گی جس میں ہزاروں فلسطینی مارے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حماس فلسطین کی تقسیم کا سبب ہے اور فلسطینیوں کو جس تباہ کن صورتحال کا سامنا ہے اس کے پیچھے حماس کا ہاتھ ہے۔ ہماری موجودہ ترجیح جارحیت اور قتل عام کو روکنا، نقل مکانی کے منصوبے کو روکنا، اور اپنے لوگوں کے خون کو بہانے سے بچانا ہے۔ پھر ہم مطالعہ کریں گے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی حقیقت کی کیا ضرورت ہے۔

الھباش نے حماس پرالزام لگایا کہ وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اس نے یہ وضاحت کی ہے کہ حماس نے 2007 سے لے کر اب تک اس تقسیم کو پیدا کیا تھا۔ فلسطینی دھڑوں نےغزہ کی پٹی میں قومی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کی اور ہمیں اس صورت حال کا مشورہ دیاجس کا ہم اس وقت سامنا کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کا مقصد، پی ایل او میں داخل ہو کر تنظیم کی قیادت کو کنٹرول کرنا ہے کیونکہ اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ تنظیم میں بغیر انتخابات کے داخل ہونے کی تجویز دی ہے اور قومی اور مرکزی کونسل میں 40 فیصد نشستوں کا مطالبہ کیا لیکن فلسطینی صدر محمود عباس ابو مازن نے ہراس شخص کے لیے مخصوص سخت اورواضح کنٹرول مقرر کیے ہیں جوحقیقی قومی اتحاد کی بنیاد پی ایل او کو واحد جائز نمائندے کے طور پر تسلیم کرنے، جدوجہد کے ایک فریم ورک کے اندر پرامن عوامی مزاحمت کو قبول کرنے پر ہے۔ حماس ایسا نہیں چاہتی اور وہ صرف اپنی شرائط عائد کرنا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں