غزہ : فلسطینی بنک سے 70 ملین ڈالر کی پراسراڈکیتی، اسرائیلی فوج نے کوئی مزاحمت نہ کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مسلح گروپ نے فلسطینی بنک کی شاخ لوٹ لی ہے۔ یہ واقعہ غزہ میں پیش آیا ہے ۔ جہاں اسرائیلی فوج کی ہر جگہ موجودگی کے باعث اسرائیل کی طرف سے ناکہ بندی جاری ہے۔ تاہم خیال یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بنک سے متعلق کارروائی میں حماس کے لوگ ملوث ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر فرانسیسی اخبار لی مونڈے نے ہفتے کے روز شائع کی ہے ۔ بنک لوٹنے کے اس واقعے میں 70 ملین ڈالر کے برابر کی رقم لوٹی گئی ہے۔ اور یہ واقعہ ایک ماہ قبل ایک سے زائد بار پیش آیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق یہ واردات بنک کی کئی برانچوں میں کی گئی ہے۔

تاہم حیران کن بات ہے کہ اسرائیلی فوج جس نے غزہ میں ہسپتالوں اور اقوم متحدہ کے ذیلی اداروؐں کے مراکز اور دفاتر تک کو اپنے حملوں اور کارروائیوں سے سے نہیں بخشا تھا اس اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی بنک کی کئی برانچوں کو تقریبا چھ ماہ تک کیونکر اتنی بڑی رقم کے باوجود نظر انداز کیے رکھا۔

حتیٰ کہ ان بنک کی برانچوں میں حماس کے مسلح لوگوں کے خطرے کے باوجود خطیر رقم کو کیوں پڑا رہنے دیا گیا۔ حالانکہ اسرائیلی فوج تو راشن اور خوارک کی تقسیم کے موقع پر بھی کسی بھوکے اور قحط زدہ کو آگے بڑھ کر خوراک حاصل کرتے ہوئے چھینا جھپٹی کی اجازت نہیں دیتی کہ اس شک گذرتا ہے کہ یہ چھینا جھپٹی اس کے فوجیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ مسلح افراد بنکوں کی برانچوں سے رقم لوٹ کر کیسے لے گئے۔

فرانسیس اخبار کی رپورٹ کے مطابق 16 اپریل کو بنک کے عملے نے ایک بنک میں رقم رکھنے والے کمرے میں ایک چھت میں ایک سوراخ دیکا ۔ جس کے بعد معلوم ہوا کہ ا اس برانچ سے 3 ملین ڈالر کے بربر اسرائیلی شیکل غائب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگلے روز مسلح افراد نے دوبارہ بن کیا سی برانچ کا وزٹ کیا اور بنک کے کنکریٹ سے بنے ہوئے حفاظتی چیمبر کو دھماکے سے اڑا دیا اور مزید 30 ملین ڈالر کے برابر کی کی رقہم لے مختلف کرنسیوں کی تین مختلف جگہوں پر رکھے گئے سیف سے نکال لے گئے ۔

تاہم اس رپورٹ میں فدونوں دنوں کے دوران اسرائیلی فوج کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی جگہ اسرائیلی فوج اور ان مسلح افراد کے درمیان مڈبھیڑ ہونے کی اطلاع رپورٹ کی ہے۔ گویا اسرائیلی فوج نے مسلح افراد کو پورا موقع دیے رکھا۔

دو دن بعد ایک اور اسی نوعیت کا واقعہ بھی فرانسیسی اخبار نے رپورٹ کیا ہے۔ غزہ میں بنک کی سب سے بڑی برانچ پر حملہ کر کے مسلح افراد نے حملہ کیا۔ یہ حملہ کرنے والے کمانڈوز تھے۔ انہوں نے بنک کے عملے کو بتایا کہ اعلیٰ حکام نے کو جواب دو، بنک کارکنوں کے مطابق اس کا مطلب حماس تھا۔ یوں 36 ملین ڈالر کی رقم کے برابر یہ کمانڈوز بھی رقم اس سب سے بڑی برانچ سے لے گئے۔

واضح رہے بنک آف فلسطین 1960 سے قائم ہے اور غزہ میں اس کی کئی شاخیں ہیں۔ فلسطینی مالیاتی اتھارٹی اس بنک کے امور کو دیکھتی ہے۔ جب اس نگرانی کرنے والے ادارے سے خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' نے رابطہ کیا کہ تو اس اتھارٹی نے جواب دیا کہ بعد ازاں اس بارے میں بیان جاری کیاجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں